لندن (11 فروری 2026): سابق پاکستانی کرکٹر ناصر جمشید نے 2017 کی اسپاٹ فکسنگ منصوبہ بندی پر معافی مانگ لی۔
سابق پاکستانی اوپننگ بیٹر ناصر جمشید نے سال 2017 میں ہونے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے پر باقاعدہ معافی مانگ لی ہے۔
ناصر جمشید کا کہنا ہے کہ ماضی میں ان کا عمل غلط تھا جس پر وہ قوم اور کرکٹ شائقین سے شرمندہ ہیں، ناصر کے مطابق ان کا عمل غلط تھا اور وہ اس پر دل سے معافی چاہتے ہیں۔
ناصر جمشید کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنی زندگی کے اس سیاہ باب کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور کرکٹ شائقین کی معافی کے طلبگار ہیں۔
سابق کرکٹر نے بتایا کہ جیل کے مشکل دور میں ان کی اہلیہ نے ان کی زندگی بچائی جو انہیں بیٹی ہانیہ کی تصویریں بھیجتی تھیں، جس سے انہیں جینے کی امید ملی۔ ناصر جمشید نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے بھی اپیل کی ہے کہ ان کی 10 سالہ پابندی کے 9 سال مکمل ہو چکے ہیں، لہذا ان کی سزا ختم کرنے پر غور کیا جائے۔
یاد رہے کہ فروری 2020 میں برطانیہ کی مانچسٹر کراؤن کورٹ نے اسپاٹ فکسنگ کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے پر ناصر جمشید کو 17 ہفتے قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے علاوہ ان پر 10 سال کے لیے کرکٹ کھیلنے پر پابندی بھی عائد کی گئی تھی۔
زاہد نور اے آر وائے نیوز کے ساتھ مانچسٹر سے بطور نمائندہ خصوصی منسلک ہیں



