The news is by your side.

Advertisement

خالد لطیف اور ناصرجمشید کا تحقیقات پرعدم اعتماد کا اظہار

لاہور : اسپاٹ فکسنگ کیس میں خالد لطیف کے بعد ناصر جمشید نے بھی پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں معطل کرکٹرخالد لطیف پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کی کارروائی کو چیلنج کرنے کے بعد اس کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ اینٹی کرپشن یونٹ نے آج خالد لطیف کو طلب کیا تھا۔

اسپاٹ فکسنگ کی تحقیقات کیلئے خالد لطیف نے پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کےساتھ تعاون کرنے سے صاف منع کردیا۔ خالد لطیف نے کہا ہے کہ مجھے اینٹی کرپشن یونٹ کےسربراہ کرنل اعظم کی تحقیقات پراعتماد اوراطمینان نہیں ہے اس لئے یونٹ کے سامنے پیش نہیں ہورہا۔

خالد لطیف اس سے قبل لاہور لائی کورٹ میں پٹیشن بھی دائر کرچکے ہیں۔ انہوں نے ٹریبونل کی کارروائی کو چیلنج کیا تھا جسے عدالت نےخارج کردیاتھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نےخالد لطیف اور شاہ زیب حسن کو نئے نوٹس جاری کیے تھے۔

اس کے علاوہ اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں معطل ہونے والے قومی ٹیم کے اوپنر ناصرجمشید نے بھی اینٹی کرپشن یونٹ کےالزامات کو چیلنج کردیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو فکسنگ پر اکسانے کا الزام بےبنیاد ہے، فوری طور پر پاکستان آکر اینٹی کرپشن یونٹ میں پیش نہیں ہوسکتا۔

واضح رہے کہ ناصرجمشید کامعاملہ بھی ٹربیونل میں جانے کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے اوپنر ناصر جمشید کو اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پر کھیل کے تینوں فارمیٹ سے معطل کر دیا ہے، ناصر جمشید تاحکم ثانی کسی بھی ڈومیسٹک یا انٹرنیشنل سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے۔

دوسری جانب معطل کرکٹرشاہ زیب حسن کے جمعرات کو اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش ہونے کا امکان ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں