پیر, مارچ 16, 2026
اشتہار

ناصر الدّین محمود:‌ درویش صفت سلطان

اشتہار

حیرت انگیز

برصغیر کی تاریخ اور حکم رانوں کی سوانح عمریوں پر مبنی کتابوں میں ناصر الدّین محمود کا نام بھی پڑھنے کو ملتا ہے جو سلطنتِ دہلی کے آٹھویں حکم راں رہے ہیں۔ ان کا تعلق خاندانِ غلاماں سے تھا۔ ناصر الدّین محمود کے کردار اور ان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے محققین نے انھیں دین دار، پرہیز گار انسان اور رعایا پرور سلطان لکھا ہے۔

ہندوستان پر خاندانِ غلاماں نے 1206ء سے 1290ء تک راج کیا تھا۔ اس کا بانی قطب الدّین ایبک تھا جو شہاب الدین غوری کی فوج میں بطور جرنیل خدمات انجام دیتا رہا تھا اور ہندوستان کا منتظم رہا تھا۔ بعد میں‌ اس نے ہندوستان کے وسیع علاقہ پر اپنی سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔ قطب الدّین کی وفات کے بعد التتمش نے دہلی میں اقتدار سنبھالا جو اس کا داماد تھا۔ ناصر الدّین محمود اسی التتمش کے چھوٹے بیٹے تھے۔ وہ علاؤ الدّین مسعود کے بعد تخت نشیں ہوئے۔

مؤرخین کے مطابق سلطان ناصر الدّین 1229ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد اس وقت سلطنت کے حکم راں تھے۔ التتمش بھی علم پرور اور نیک سیرت مشہور تھے اور ان کے بیٹے نے بھی نیک خصلت حکم راں‌ کے طور پر شہرت حاصل کی۔ سلطان ناصر الدّین اولاد کی نعمت سے محروم رہے۔ وہ 18 فروری 1266ء کو انتقال کرگئے تھے اور اس کے بعد ان کی افواج کے سپہ سالار غیاث الدّین بلبن کو تخت سونپا گیا تھا۔ غیاث الدّین بلبن نے بحیثیت سپہ سالار ہندوستان کی اس سلطنت کو منگولوں کی یلغار سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسے اقدامات کیے اور وہ کارنامے انجام دیے تھے جس نے اسے سلطان ناصر الدّین محمود کے بہت قریب کردیا تھا۔

سلطان ناصر الدّین محمود اپنی تخت نشینی سے پہلے 16 سال کے تھے جب ان کو بہرائچ کا حاکم مقرر کیا گیا۔ انھوں نے انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر کام یابی سے اپنے فرائض انجام دیے اور تمام معاملات کو بحسن و خوبی سنبھالا۔ مشہور ہے کہ وہ ہر دور میں رعایا کے لیے مہربان اور انصاف پسند رہے۔ تاہم اس دوران مرکزی حکومت کے کم زور پڑنے پر ان کو دہلی طلب کر لیا گیا اور تخت نشینی کے بعد ابھیں کئی اہم نوعیت کے فوری فیصلے کرنا پڑے جن سے سلطنت کو استحکام نصیب ہوا۔ سلطان ناصر الدّین صلح جُو اور امن پسند تھے، لیکن متعدد لڑائیوں میں بھی بذاتِ خود حصّہ بھی لیا۔ خاص طور پر منگولوں کے زبردست حملوں سے انھوں نے اپنے علاقوں کو بچانے کے لیے کئی عسکری نوعیت کے فیصلے کیے اور کام یاب رہے۔

مشہور ہے کہ ناصر الدین محمود کے دور میں ہی تاریخ کی مشہور کتاب طبقاتِ ناصری تصنیف ہوئی۔ یہ کتاب مولانا منہاج السراج کی تصنیف کردہ ہے جسے ناصرالدین محمود کے نام کی مناسبت سے یہ نام دیا گیا ہے۔ اس میں قدیم دور سے لے کر مولانا نے اپنے زمانہ تک کے تاریخی واقعات بیان کیے ہیں۔

سلطان کو بعد از مرگ دہلی کے علاقے ملک پور میں‌ سپردِ خاک کیا گیا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں