کراچی (10 جولائی 2026): ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز آف پاکستان (آباد) نے نسلہ ٹاور کی زمین خریدنے اور اس پر دوبارہ عمارت تعمیر کرنے کا اعلان کر دیا۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’دی رپورٹرز‘ میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین آباد حسن بخشی نے وفاقی آئینی عدالت کے آج کے فیصلے پر اظہارِ خیال کیا، جس میں عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کے سپریم کورٹ کے احکامات واپس لے لیے اور کہا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنا عدلیہ کا اختیار نہیں۔
حسن بخشی نے کہا کہ عدالتی فیصلہ خوش آئند ہے، لیکن نسلہ ٹاور کے متاثرین کو آج تک معاوضہ نہیں ملا، اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس کو سدھارنا چاہیے، عمارت کی زمین کو بیچ کر اب متاثرین کو ادائیگیاں کرنا چاہییں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں جسٹس گلزار احمد (سابق چیف جسٹس آف پاکستان) کو اس فیصلے سے پہلے سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی، ملکی اداروں اور وزیر اعظم آفس سے بھی سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی۔
چیئرمین آباد نے اعلان کیا کہ عمارت کی زمین کو آباد خریدے گا اور نسلہ ٹاور دوبارہ بنائیں گے، نسلہ ٹاور کا بلڈر نچلے طبقے سے تھا جو انتقال ہو چکا ہے۔
حسن بخشی نے اپنی بات کو پھر دہرایا کہ نسلہ ٹاور کے پلاٹ کی نیلامی سے متاثرین کو معاوضہ دیا جا سکتا ہے۔
’ہم بے گھر ہوگئے، لوگ مر گئے اب نسلہ ٹاور کا فیصلہ غلط قرار دیا اس کی حیثیت کیا ہے‘


