نسلہ ٹاور متاثرین میں شامل محمد علی نے کہا کہ ہم بے گھر ہوگئے لوگ مر گئے اب نسلہ ٹاور کا فیصلہ غلط قرار دیا اس کی حیثیت کیا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کے سپریم کورٹ کےاحکامات واپس لے لیے اور کہا غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرناعدلیہ کا اختیار نہیں ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنا عدلیہ نہیں بلکہ متعلقہ صوبائی حکومت اور مجاز اداروں کا اختیار ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتیں اپنے سامنے موجود تنازع تک محدود رہیں اور غیر ضروری معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔
Nasla Tower demolition Orders Reveresed
عدالتی فیصلے کے بعد متاثری نسلہ ٹاور پہنچنا شروع ہوگئے، محمد علی جن کے تین فلیٹس تھے انہوں نے کہا کہ یہ بلڈنگ ٹوٹ گئی لوگ مرگئے ایک سپریم کورٹ جج نے اپنی ذاتی اتنا پر یہ فیصلہ جاری کیا تھا اور اس نے کتنے ہی خاندانوں کو تباہ کردیا۔
انہوں نے کہا کہ اب اس فیصلے کا مقصد کیا ہے، نسلہ ٹاور کے لیے الگ فیصلہ اور اسلام آباد کے لیے الگ حکم دیا جاتا ہے۔


