خورشید شاہ کا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ -
The news is by your side.

Advertisement

خورشید شاہ کا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ

اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پر بحث کرنے کے لیے قومی اسمبلی کا اہم اجلاس جاری ہے‘ خورشید شاہ کہتے ہیں عید کے بعد جوائنٹ سیشن بلاناچاہئے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پر قومی اسمبلی میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کہتے ہیں کہ سینٹ اورقومی اسمبلی کے اراکین کو مل کر مضبوط لائحہ عمل بناناچاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ اجلاس بلا کر پاکستان کی پوزیشن کو واضح کرناچاہئے‘ ہمیں اپنے ماضی ،حال اور پڑوسیوں سے تعلقات پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ موجودہ صورتحال میں جذبات سے کام نہیں لیناچاہئے۔

قائد حزبِ اختلاف نے کہا کہ چاہیں ہم کسی بھی جماعت سےہوں مگرہم سب سے پہلے پاکستانی ہیں۔ ہمیں صورتحال کو مدنظر رکھ کر تمام فیصلے کرنےہوں گے‘مشترکہ سوچ کےذریعے بہتر پوزیشن حاصل کرسکتے ہیں۔

خورشیدشاہ نے اجلاس کے شرکا ء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوچنا ہوگاآخر4سال میں ہماری خارجہ پالیسی کیوں کمزور ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی اصل اہمیت کوہم اپنی غلطیوں سے کھو بیٹھے ہیں۔

میاں نوازشریف 4سال ملک کے وزیرخارجہ کا عہدے پربھی رہے ان کی پوزیشن پر سوالیہ نشان ہے کہ 4سال میں کیاکیا۔1965 کی جنگ میں تمام مسلم ممالک ہمارے ساتھ کھڑے تھے آج چین کےعلاوہ دیگر سرحدی ممالک سے پاکستان کےتعلقات ٹھیک نہیں۔

 چودھری نثارنے امریکی امداد کے آڈٹ کا مطالبہ کردیا*

 ان کا موقف تھا کہ کہ مسلم لیگ ن میں اچھے لوگ بھی ہیں ‘ کیا حکومت کوئی مستقل وزیرِ خارجہ نہیں رکھ سکتی تھی‘ 4سال کے دور میں وزارت خارجہ لاوارث تھی۔حکومت نےاب جاکرسینئرسیاستدان خواجہ آصف کووزیرخارجہ بنایا ہے ‘ حکومت اگر عابدشیرعلی کوبھی وزیرخارجہ بنادیتی توبھی مانتے۔ مذاق نہیں کررہا!عابدشیرعلی اگروزیرخارجہ بنتےتو کچھ نہ کچھ توکرتے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشترکہ اجلاس میں ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جانا چاہیے‘ اس معاملے پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی ضرورت نہیں ہے‘ ہم سب مشترکہ طور پر اس کا حل نکالیں گے۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ خارجی محاذ پر4سال میں ہونیوالی ناکامی کومانناپڑےگا‘آج ہم باہر جاتے ہیں اور باتیں سن کر واپس آجاتےہیں ‘ اسلحے کی جنگ سے زیادہ ٹیبل پر مذاکرات کارآمد ہوتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں