The news is by your side.

Advertisement

اسپیکر کے لیے قومی اسمبلی اجلاس چلانا ناممکن ہو گیا

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تناؤ کے باعث قومی اسمبلی کی کارروائی بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔

آئے روز کے احتجاج، ہنگامہ آرائی اور واک آوٹ کے باٰعث اسپیکر کے لیے اجلاس کی کارروائی چلانا ناممکن ہو گیا، ایوان میں واضح اکثریت کے باوجود حکومت کے لیے کورم پورا کرنا مشکل ہو گیا۔

آج جمعے کے روز ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس اپوزیشن کے احتجاج، واک آوٹ اور کورم پورا نہ ہونے کے باعث بغیر کارروائی کے ملتوی کر دیا گیا۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت آج کا اجلاس شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نوید قمر نے کہا کہ پارلیمان ٹھیک طرح سے عوام کی نمائندگی نہیں کر رہا، جس طرح ایوان کی کارروائی چلائی جا رہی ہے وہ مناسب نہیں، ہم ایسے ایوان کی کارروائی کا حصہ نہیں بن سکتے۔ اس کے بعد اپوزیشن نے ایوان سے واک آوٹ کر لیا۔

پارلیمانی امور کے مشیر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جس انداز سے ایوان میں احتجاج کر رہی ہے اور اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کیا گیا وہ بھی کوئی پارلیمانی انداز نہیں۔

انھوں نے کہا کہ اسپیکر کی جانب سے جو بھی اجلاس بلایا جاتا ہے اپوزیشن اس میں شرکت نہیں کرتی، قومی سلامتی کمیٹی اور ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا بھی اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کا رویہ غیر جمہوری اور غیر پارلیمانی ہے۔

ن لیگ کے شیخ فیاض الدین نے اس موقع پر کورم کی نشان دہی کی، کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس پیر کی شام 5 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں