site
stats
پاکستان

ٹرمپ بیان اور افغان پالیسی کے خلاف قومی اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور

اسلام آباد : قومی اسمبلی نے امریکی پالیسی اورٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے مذمت کرتے ہوئے متفقہ طور پر مذمتی قرار داد منظور کرلی.

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے آج ہونے اہم اجلاس میں امریکی پالیسی اور ٹرمپ کے بیان کے خلاف مذمتی قرارداد وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے پیش کی جسے اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا.

قرارداد میں کہا گیا کہ بھارت کو پاکستان میں امن و امان کو خراب کرنے کے لیے افغانستان میں مواقع فراہم کرنے کی مذمت کرتے ہیں جب کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں.

قرارداد کے متن میں کشمیریوں کی اخلاقی اورسیاسی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر پر پاکستان سے مذاکرات کوتیار نہیں ہے.

قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نےدہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دیں ہیں اور دہشت گردی کے خلاف 70 ہزار پاکستانیوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے دیا.

قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ پوری قوم ٹرمپ پالیسی کے خلاف متحد ہے اور ہماری فوج نے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کا ارادہ کیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں.

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ یوان دہشت گردی کے خلاف پاکستانی فورسز کی قربانیوں کا اعتراف کرتا ہے اور امریکا کے پاکستان کو اربوں ڈالر دینے کے بیان کو مسترد کرتے ہیں.

قرارد داد میں امریکا کے لب و لہجے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ٹرمپ اورجنرل نکولسن کے بیانات دھمکی آمیز ہیں اور یہ ایوان پاکستان اور افغانستان سے متعلق امریکی پالیسی کو مسترد کرتا ہے اور وضاحت طلب کرتا ہے کہ بھارت افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کررہا.

قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان پاکستان میں طالبان کی موجودگی کا دعویٰ مسترد کرتا ہے اور پاکستان خطے میں امن کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا.

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top