اسلام آباد (05 مارچ 2026): ایف بی آر نے اسمگلنگ کی روک تھام اور تجارت میں سہولت کے لیے ڈیجیٹل نیشنل کارگو ٹریکنگ سسٹم اور ای۔بلٹی میکنزم کے ڈیزائن مرحلے کا آغاز کر دیا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے آج اپنی ڈیجیٹلائزیشن اور ماڈرنائزیشن کے ایجنڈے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے نیشنل کارگو ٹریکنگ سسٹم اور ای۔بلٹی میکنزم کے لیے اسٹریٹجک فزیبلٹی اسیسمنٹ اور سلوشن ڈیزائن کے معاہدے پر باضابطہ دستخط کر دیے۔
یہ منصوبہ عالمی بینک کے مالی تعاون سے پاکستان ریزز ریونیو پروگرام کے تحت شروع کیا گیا ہے، جس کی قیادت نیشنل ٹارگٹنگ سینٹر کر رہا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد اشیا کی ترسیل کی روایتی، دستی اور کاغذی دستاویز کو، جسے مقامی طور پر ’’بلٹی‘‘ کہا جاتا ہے، ایک مرکزی اور ٹیکنالوجی پر مبنی الیکٹرانک ٹرانسپورٹ وے بل میں تبدیل کرنا ہے۔
اس وقت کاغذی دستاویزات اور مختلف اداروں کی جانب سے روایتی جانچ پڑتال پر انحصار کی وجہ سے سنگین رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں، جس سے قانونی تجارت کرنے والے تاجروں کے مال کی ترسیل میں تاخیر ہوتی ہے اور ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
مجوزہ سی ٹی ایس پلیٹ فارم کمرشل کارگو کو اس کے مقامِ آغاز سے منزل تک حقیقی وقت میں ٹریک کرنے کی سہولت فراہم کرے گا، ایک منفرد اور فوری طور پر قابلِ تصدیق کیو آر کوڈ کے ساتھ ای۔بلٹی جاری کی جائے گی، جس کے ذریعے کسٹمز انفورسمنٹ ٹیمیں قانون کی پابندی کرنے والے اور خلاف ورزی کرنے والے کارگو میں مؤثر انداز میں فرق کر سکیں گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ یہ اقدام ہماری ڈیجیٹل اور شفاف معیشت کے وسیع تر وژن کا بنیادی ستون ہے، ہم سی ٹی ایس کو وی بوک (WeBOC)، سیلز ٹیکس ریئل ٹائم انوائس ویریفکیشن اور اینٹی اسمگلنگ پورٹل جیسے موجودہ نظاموں کے ساتھ مربوط کر کے ان خامیوں کو ختم کر رہے ہیں جو جعلی سیلز ٹیکس انوائسز اور اشیا کے بارے میں غلط بیانی کو ممکن بناتی ہیں۔
ممبر کسٹمز آپریشنز نے اس موقع پر کہا کہ ’’ہمارا مقصد راستے میں سامان کی فزیکل جانچ پڑتال اور تاخیر کو کم سے کم کر کے تجارت میں سہولت فراہم کرنا ہے، سی ٹی ایس ہمارے افسران کو رسک بیسڈ ڈیٹا فراہم کرے گا اور ہمارے انفورسمنٹ نظام کو شاہراہوں پر چیکنگ کرنے کی بجائے جدید ڈیجیٹل نگرانی کرنے والے نظام میں تبدیل کر دے گا۔‘‘
اس معاہدے کے تحت ایک جامع تجزیاتی اور تکنیکی ڈیزائن مرحلہ شروع ہو گیا ہے، منتخب کنسلٹنگ فرم کو بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کا جائزہ لینے، اعلیٰ سطحی آئی سی ٹی انفراسٹرکچر کی ضروریات کا تجزیہ کرنے، قانونی اور پالیسی فریم ورک کا مطالعہ کرنے اور نظام کے تفصیلی ڈھانچے اور انفورسمنٹ کے روڈ میپ کی تیاری کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
Shoaib Nizami reports Finance, Fedeal Board of Revenue, Planning , Public Accounts, Banking, Capital Market, SECP, IMF, World Bank, Asian Development Bank, FATF updates for ARY News


