قومی سائیکلسٹ کاشف بشیر ٹریفک حادثے میں زخمی -
The news is by your side.

Advertisement

قومی سائیکلسٹ کاشف بشیر ٹریفک حادثے میں زخمی

چھ ماہ تک کسی ایونٹ میں حصہ نہیں لے سکیں گے

کراچی : قومی سائیکلسٹ کاشف بشیر ٹریفک حادثے میں زخمی ہوگئے ہیں ، ٹانگ میں فریکچر کے سبب ان کا بڑا آپریشن کیا گیا ہے جس کے سبب انہیں آئندہ چھ ماہ بستر پر گزارنے ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ماڈل کالونی ملیر کے رہائشی 32 سالہ نیشنل سائیکلسٹ کاشف بشیر کو گزشتہ ماہ ناتھا خان پل کے قریب ایک تیز رفتار بس نے پیچھے سے ٹکر مار کر زخمی کردیا تھا، وہ کراچی میں سندھ سائیکلنگ کی جانب سے منعقد کی گئی سائیکل ریس میں شرکت کے بعد اپنے گھر واپس جارہے تھے کہ بس نے ان کو ٹکر ماردی ۔

بس ڈرائیور کی اس لاپروائی کے نتیجے میں ملک و قوم کا نام سربلند کرنے والے کاشف بشیر کی ٹانگ میں فریکچر ہوگیا اور وہ وہ چھ ماہ کے لئے ان فٹ ہوگئے ہیں، اس کے ساتھ ہی اس حادثے میں تقریباً3500 ہزار یورو( لگ بھگ ساڑھے چار لاکھ روپے) میں خرید ی گئی اسپورٹس سائیکل بھی تباہ ہوگئی جوانہوں نے اپنی پندرہ سالہ سائیکلنگ کیریئر میں بڑی مشکل سے اپنی جمع پونجی سے رقم اکٹھا کرکے خریدی تھی۔

سائیکلنگ

عالمی ریکارڈ ہولڈر سائیکلسٹ کاشف بشیر نے اپنی سائیکلنگ کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے ٹورڈی گوادر سائیکل ریس میں اوتھل سے اورماڑہ کا مشکل ترین 246کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے دوسری پوزیشن حاصل کرکے عالمی ریکارڈ بنایا تھا، اس قبل فرانس میں ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس میں231 کلومیٹر کا مشکل راستہ طے کرکے عالمی ریکارڈ قائم کیا گیا تھا جسے پاکستانی سائیکلسٹ نے توڑ دیا تھا۔

کاشف بشیر نے بتایا کہ انہوں نے2005 میں انٹرنیشنل ٹورڈی پاکستان سائیکل ریس میں شرکت کی تھی جس میں چار ممالک ایران ، جرمنی، بنگلہ دیش اور افغانستان کے سائیکلسٹ بھی شریک ہوئے تھے اس میں ان کی 15پوزیشن حاصل کی تھی ، اس کے علاوہ ملک میں قومی سطح کے سائیکلنگ مقابلوں میں حصہ لیتے رہے ہیں ،ان میں ٹورڈی گوادر، ٹورڈی پنجاب، ٹور ڈی سندھ سائیکل ریس شامل ہیں۔ٹورڈی سندھ سائیکل ریس میں اس نے مکمل تیاری کے بغیر شرکت کی تھی جس میں اس کی کوئی اچھی پرفارمنس نہیں تھی ،اس کے ساتھ کاشف بشیر نے کراچی میں ہونے والی سائیکل ریسوں میں تین مرتبہ پہلی ، تین بار دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی ہیں۔

کاشف کا کہنا ہے کہ سائیکلسٹ کے لیے کوئی حکومتی سطح پر کوئی
حوصلہ افزائی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی روزگار کی سہولت ہے ،ان سہولیات کے فقدان کی وجہ سے ملک میں کوئی سائیکلنگ اوپر نہیں آرہا ہے۔ سا ئیکلنگ کا کھیل، کرکٹ سے زیادہ مہنگا شوق ہےایک سائیکل کی قیمت لاکھوں میں ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں