The news is by your side.

Advertisement

مالی سال 2020-21 کا قومی اقتصادی سروے آج پیش کیا جائے گا

اسلام آباد: وزیرخزانہ شوکت ترین آج مالی سال 2020-21 کا قومی اقتصادی سروے  پیش کریں گے، اقتصادی سروےمیں اہم اقتصادی اشاریوں اور کارکردگی کا احاطہ کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق مالی سال 2020-21کا قومی اقتصادی سروے آج پیش کیاجائےگا ، وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ وزیرخزانہ شوکت ترین اقتصادی سروے کا اعلان کریں گے، اقتصادی سروےمیں اہم اقتصادی اشاریوں اورکارکردگی کااحاطہ کیاجائے گا۔

وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ نئےبجٹ میں عوامی مفاداورکاروباردوست گروتھ پرمبنی بجٹ تیارکیاجارہاہے ، حکومت سخت مالیاتی ڈسپلن اور معاشی بہتری کیلئےکوشاں ہے۔

جی ڈی پی4فیصدرہنےکی توقع اور زرعی شرح نمو2.8فیصدریکارڈ کیا گیا جب کہ صنعت اورسروسز سیکٹرکی شرح نمو بھی بڑھ گئی، اس دوران 4ہزارارب سے زائد ٹیکس وصولی اور ترسیلات زرکا تاریخی حجم رہا۔

کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں سواارب ڈالرآگئے، صنعتی شرح نمو3.5فیصد اور بڑی صنعتوں کی ترقی9فیصد رہی جب کہ تعمیراتی سیکٹرمیں بھی ترقی اور سیمنٹ کی فروخت میں زبردست اضافہ ہوا۔

خیال رہے مالی سال 22-2021 کا وفاقی بجٹ کل پیش کیا جائے گا، ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ کا حجم 8 ہزار ارب روپے سے زائد ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ سود کی مد میں ادائیگیوں کے لیے 3 ہزار 105 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، دفاع کے لیے 1330 ارب روپے اور ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 829 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق رواں مالی سال برآمدات کا ہدف 26 ارب 80 کروڑ ڈالر اور درآمدات کا ہدف 55 ارب 30 کروڑ ڈالر رکھا جائے گا۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ہدف 2 ارب 30 کروڑ ڈالر رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ترسیلات زر کا ہدف 31 ارب 30 کروڑ ڈالر مقرر ہو سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ گرانٹس کی مد میں 994 ارب روپے اور سبسڈیز کی مد میں 501 ارب روپے مختص کرنے اور جی ڈی پی کا ہدف 4.8 فیصد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں