کراچی (17 فروری 2026): ملک بھر میں امتحانی نظام کو یکساں، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ پالیسی تشکیل دینے کے حوالے سے قومی امتحانی و اسسمنٹ سمٹ 2026 کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف صوبوں کے تعلیمی بورڈز اور ماہرین نے اصلاحات پر اتفاق کیا۔
ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز سندھ، انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن پاکستان اور آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے اشتراک سے قومی امتحانی و اسسمنٹ سمٹ 2026 کا انعقاد مقامی ہوٹل میں کیا گیا۔ سمٹ کا مقصد ملک بھر میں امتحانی نظام کو قومی سطح پر یکساں، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینا تھا۔
سمٹ میں صوبہ سندھ کے علاوہ خیبر پختونخوا، اسلام آباد اور پنجاب سے تعلیمی بورڈز اور اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اس موقع پر آغا خان ایگزامنیشن بورڈ اور ضیا الدین یونیورسٹی ایگزامنیشن بورڈ کے سربراہان بھی موجود تھے، جب کہ سندھ کی ممتاز تعلیمی شخصیات اور ماہرینِ تعلیم نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کے دوران امتحانی طریقہ کار میں ہم آہنگی، پرچہ سازی اور جانچ کے نظام میں بہتری، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور نتائج کے اعلان تک شفافیت کو یقینی بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکا نے اس امر پر زور دیا کہ امتحانات کے تمام مراحل میں مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ طلبہ کو میرٹ پر مبنی اور قابلِ اعتماد نتائج فراہم کیے جا سکیں۔
تقریب میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مختلف تعلیمی بورڈز کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے اور قومی سطح پر ایسا معیار وضع کیا جائے جو تمام صوبوں میں یکساں طور پر نافذ ہو سکے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف امتحانی نظام میں شفافیت آئے گی بلکہ طلبہ اور والدین کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
صوبائی وزیر برائے بورڈز اینڈ یونیورسٹیز اسماعیل راہو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت امتحانی طریقہ کار میں جامع اصلاحات لا رہی ہے۔ پیپر کی تیاری سے لے کر نتائج کے اعلان تک ہر مرحلے میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا، طلبہ کو یونین سازی کا بھی مکمل اختیار حاصل ہے اور سندھ اسمبلی یونین انتخابات کے حوالے سے پہلے ہی بات کر چکی ہے۔
انھوں نے کہا سندھ یونیورسٹی دادو کیمپس سے متعلق انکوائری کمیٹی کام کر رہی ہے اور جامعات میں کسی بھی قسم کی غیر مناسب سرگرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اگر شاہ لطیف یونیورسٹی کی انتظامیہ ان سے رابطہ کرے گی تو وہ فوری ایکشن لیں گے۔ انھوں نے 2022 کے سلیکشن بورڈ میں مبینہ بے قاعدگیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انور خان اے آر وائی نیوز کراچی کے لیے صحت، تعلیم اور شہری مسائل پر مبنی خبریں دیتے ہیں





