The news is by your side.

Advertisement

قومی پرچم کی حفاظت ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے

یومِ آزادی کے موقع پر تو پاکستان کی ہر گلی ، ہر سڑک اور گاڑی قومی پرچم سے مزین ہوتی ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ قومی پرچم کو لہرانے کے کچھ آداب بھی ہیں جنہیں ہر صورت ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے بالخصوص رنگ کےمعاملے میں تو کوئی سمجھوتا نہیں کرنا چاہیئے۔

پاکستان کے قومی پرچم کا سرکاری نام ’پرچم ِ ستارہ و ہلال‘ ہے اوراسکا ڈیزائن امیر الدین قدوائی نے قائد اعظم کی ہدایت پر مرتب کیا تھا اورپاکستان کا پہلا پرچم ماسٹر الطاف حسین اورافضال حسین نے سیا تھا۔

5555
ماسٹر الطاف حسین قومی پرچم سیتے ہوئے

یہ گہرے سبز اور سفید رنگ پر مشتمل ہے جس میں تین حصے گہرے سبز اور ایک حصہ سفید رنگ کا ہوتا ہے۔سبز رنگ مسلمانوں اور سفید رنگ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کو ظاہر کرتا ہے جبکہ سبز حصے کے بالکل درمیان میں چاند(ہلال) اور پانچ کونوں والا ستارہ ہوتاہے، سفید رنگ کے چاند کا مطلب ترقی اور ستارے کا مطلب روشنی اور علم کو ظاہر کرتا ہے۔

کسی سرکاری تدفین کے موقع پر’ 21′+14′, 18′+12′, 10′+6-2/3′, 9′+6-1/4سائز کا قومی پرچم استعمال کیا جاتا ہے اور عمارتوں پر لگائے جانے کے لئے 6′+4′ یا3′+2′کا سائز مقرر ہے۔

flagg
پاکستان کا پہلا قومی پرچم

سرکاری گاڑیوں اور کاروں پر12″+8″کے سائز کا پرچم لگایا جاتا ہے جبکہ میزوں پر رکھنے کے لئے پرچم کا سائز 6-1/4″+4-1.4″ مقرر ہے۔

پاکستان کے قومی پرچم کے لہرانے کی تقاریب پاکستان ڈے(23مارچ)،یوم آزادی(14اگست)،یوم قائد اعظم(25دسمبر) منائی جاتی ہیں یا پھر حکومت کسی اور موقع پر لہرانے کا اعلان کرے۔

اسی طرح قائد اعظم کے یوم وفات(11ستمبر) ،علامہ اقبال کے یوم وفات(21اپریل) اور لیاقت علی خان کے یوم وفات(16اکتوبر) پر قومی پرچم سرنگوں رہتاہے یا پھر کسی اور موقع پر کہ جس کا حکومت اعلان کریں، پرچم کے سرنگوں ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں پرچم ڈنڈے کی بلندی سے قدرے نیچے باندھا جاتاہے ۔

اس سلسلے میں بعض افراد ایک فٹ اور بعض دو فٹ نیچے بتاتے ہے۔سرکاری دفاتر کے علاوہ قومی پرچم جن رہائشی مکانات پر لگایا جا سکتاہے ان میں صدر پاکستان ، وزیراعظم پاکستان ،چیئرمین سینٹ ، سپیکر قومی اسمبلی، صوبوں کے گورنر ،وفاقی وزارء یا وہ لوگ جنہیں وفاقی وزیر کا درجہ حاصل ہو، صوبوں کے وزارءاعلیٰ اور صوبائی وزیر ، چیف الیکشن کمشنر ،ڈپٹی چیئرمین آف سینٹ ، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ، صوبائی اسمبلیوں کے سپیکر ،دوسرے ممالک میں پاکستانی سفیروں کی رہائش گاہیں شامل ہے ۔

flag
قومی پرچم کی ساخت اور رنگ

پہلے ڈویژن کے کمشنر اور ضلع کے ڈپٹی کمشنرکو بھی اپنی رہائش گاہوں پر قومی پرچم لگانے کی اجازت تھی ۔ قبائلی علاقوں کے پولیٹیکل ایجنٹ بھی اپنے گھر پر قومی پرچم لگا سکتے ہے۔جبکہ اس ہوائی جہاز ، بحری جہاز اور موٹر کار پر بھی قومی پرچم لہرایا جاتا ہے کہ جس میں صدر پاکستان ،وزیر اعظم پاکستان ،چیئرمین سینٹ ، سپیکر قومی اسمبلی ،چیف جسٹس آف پاکستان ،صوبوں کے گورنر ، صوبوں کے وزارءاعلیٰ اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سفر کر رہے ہوں۔

بحیثیت شہری ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم جشن آزادی کے موقع پر لگائے گئے پرچموں کی حفاظت کریں اور یومِ آزادی گزرجانے کے بعد ان پرچموں کو احتیاط کے ساتھ مناسب جگہ پر رکھنے کا اہتمام کریں، یاد رکھیں زندہ قومیں کبھی بھی اپنے قومی پرچم کی بے حرمتی نہیں ہونے دیتیں چاہے وہ ایک جھنڈی یا چھوٹا سے بیج ہی کیوں نا ہو۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں