اسلام آباد (20 جولائی 2026): وفاقی حکومت نے قومی جیم اسٹون پالیسی 2026 تا 2030 کی منظوری دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق نئی پالیسی وفاقی و صوبائی اداروں اور صنعت سے مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کے شعبے کی ترقی کے لیے ’’نیشنل جیم اسٹون اتھارٹی‘‘ قائم کی جائے گی، جب کہ اس کے قیام کے لیے ابتدائی فنڈنگ وفاقی حکومت فراہم کرے گی۔ پاکستان جیمز اینڈ جیولری ڈیولپمنٹ کمپنی کو بھی نیشنل جیم اسٹون اتھارٹی میں ضم کیا جائے گا۔
پالیسی کے تحت ’نیشنل وارنٹی آفس‘ برآمدی جیم اسٹونز کی جانچ اور سرٹیفکیشن کا ذمہ دار ہوگا، جب کہ پاکستان کسٹمز اور پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے برآمدی عمل کو مزید شفاف بنایا جائے گا۔
کینیڈا کی وزیرخارجہ انیتا آنند سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئیں
دستاویز کے مطابق جیم اسٹونز کے لیے مخصوص ’ایچ ایس کوڈز‘ اور قومی بزنس رجسٹری قائم کی جائے گی، جب کہ ای کامرس کے ذریعے جیم اسٹونز کی برآمدات اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
پالیسی کے تحت جدید کان کنی، کٹنگ اور پالشنگ مراکز قائم کیے جائیں گے، جب کہ ہنرمندی کے فروغ کے لیے خصوصی پروگرام بھی متعارف کرائے جائیں گے۔
حکام کے مطابق حکومت نے ہدف مقرر کیا ہے کہ 2030 تک جیم اسٹونز کی برآمدات کو 50 کروڑ ڈالر تک بڑھایا جائے، نئی پالیسی سے گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔
وزارت صنعت کے حکام کے مطابق پاکستان میں جیم اسٹونز کے ذخائر کی مالیت 450 ارب ڈالر سے زائد ہے، تاہم جیم اسٹونز کی سرکاری برآمدات اس وقت صرف 50 سے 70 لاکھ ڈالر سالانہ تک محدود ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیر رسمی تجارت کے باعث زرمبادلہ، ٹیکس وصولیوں اور برآمدات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے ستمبر 2025 میں جیم اسٹونز کے شعبے کی ترقی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کی تھی۔


