The news is by your side.

Advertisement

ملکی تاریخ کے سب سے بڑے نیشنل نیوٹریشن سروے رپورٹ 19-2018 کی لانچنگ آج ہوگی

اسلام آباد : ملکی تاریخ کے سب سے بڑے نیشنل نیوٹریشن سروے رپورٹ 19-2018 کی لانچنگ آج ہوگی، سروے میں ملک میں غذائی قلت کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ملکی تاریخ کے سب سے بڑے نیشنل نیوٹریشن سروے کی تفصیلی رپورٹ تیار کرلی گئی ، نیشنل نیوٹریشن سروے رپورٹ 19-2018 کی لانچنگ آج ہوگی، ڈاکٹرفیصل سلطان نیشنل نیوٹریشن سروے کی تفصیلی رپورٹ لانچ کریں گے۔

نیشنل نیوٹریشن سروے 19-2018 کی رپورٹ سامنے آگئی ہے ، ذرائع وزارت صحت کا کہنا ہے کہ نیشنل نیوٹریشن سروے ایک سال کی مدت میں مکمل کیا گیا، نیشنل نیوٹریشن سروے میں ملک میں غذائی قلت کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ، سندھ، قبائلی اضلاع، کے پی، بلوچستان میں غذائی قلت کی شرح میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک میں 5 سال سے کم عمر 10 میں سے 4 بچے اسٹنٹنگ کا شکار ہیں جبکہ ملک میں 5 سال سے کم عمر 40 فیصد بچے ، شہری علاقوں میں 34.8 فیصد بچے اور دیہی علاقوں میں 43.2 فیصد بچے اسٹنٹنگ کا شکار ہیں۔

سروے رپورٹ کے مطابق پانچ سال سے کم 40 فیصد بچوں کا قد بلحاظ عمر کم ہے، پانچ سال سے کم 17.7 فیصد بچوں کا وزن بلحاظ قد کم ہے،پیدائش کے پہلے چھ ماہ میں 48.4 فیصد بچوں کو ماں کا دودھ میسر آتا ہے۔

نیوٹریشن سروے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں کم وزن بالغ لڑکوں کی تعداد لڑکیوں سے زیادہ ہے، ہر 8 میں سے ایک بالغ لڑکی کم وزن ہے،ملک میں 79.6 فیصد گھرانے آئیوڈین نمک استعمال کرتے ہیں جبکہ 82.7 فیصد ملکی آبادی کو کلورین ملا پینے کا پانی دستیاب ہے۔

سروے کے مطابق ملک میں 5 سال سے کم عمر 9.5 فیصد بچے موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ 5 سال سے کم 28.9 فیصد بچے وزن کی کمی کا شکارہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 15 تا 49 سال عمر کی 1 فیصد خواتین شدید اینیمیا کا شکار اور 49 سال عمر تک کی 41.7 فیصد خواتین خون کی معمولی کمی کا شکار ہیں، اسی طرح 5 سال سے کم عمر 54 فیصد بچے خون کی کمی ، 5 سال سے کم عمر 52 فیصد بچے وٹامن اے کی کمی ، 5 سال سے کم عمر 62 فیصد بچے وٹامن ڈی کی کمی کا شکار اور 27 فیصد مائیں وٹامن اے، 80 فیصد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں۔

ذرائع کے مطابق ملک بھرسے1لاکھ15ہزارگھرانےنیشنل نیوٹریشن سروےکاحصہ تھے، نیشنل نیوٹریشن سروےمیں پہلی بارضلعی سطح پراعدادوشمارجمع کئے گئے ، سروے کیلئے تکنیکی معاونت ڈبلیوایچ او،یونیسیف نے فراہم کی جبکہ وزارت صحت، یونیسیف، تھرڈ پارٹی نے نیوٹریشن سروے کی نگرانی کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیوٹریشن سروے میں خواتین،بچوں میں غذائی ضروریات کی شرح کوپایاگیا، سروے میں عورتوں، بچوں میں آیوڈین، وٹامنز کی مقدار چیک کی گئی، غربت کی شرح، صاف پانی تک عوامی رسائی کو پرکھا گیا اور حفظان صحت کے اصولوں پر عملدرآمد کو جانچا گیا، زرائع

Comments

یہ بھی پڑھیں