The news is by your side.

Advertisement

سینیٹ کے زیراہتمام نیشنل پارلیمنٹیرین کانفرنس برائے کشمیر کا انعقاد

اسلام آباد:سینیٹ کے زیراہتمام نیشنل پارلیمنٹیرین کانفرنس برائے کشمیرکاانعقاد کیا گیا جس سے کشمیری اور پاکستانی رہنماؤں نے خطاب کیا ، کانفرنس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بحالی اور بھارت کے ظلم و ستم کو اجاگر کرنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل پارلیمنٹیرین کانفرنس برائے کشمیر کا بنیادی موضوع مقبوضہ کشمیر میں فوری انسانی بحالی کے اقدامات کی شروعات رکھا گیا تھا اوراس کا مقصد بھارت کی جانب سے وادی میں انسانی حقوق کی پامالی پر دنیا بھر کی توجہ مبذول کرانا تھا

اس کانفرنس میں ایوانِ بالا سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کے ساتھ ساتھ وزیر خارجہ شاہ محمو د قریشی، آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر، بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال خان، چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی، قائدایوان شبلی فراز، کشمیر کمیٹی کے چیئر مین فخر امام اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بھی موجود تھے

اپنے افتتاحی خطاب میں چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں حق ِ خود ارادیت مانگنے والوں کے خلاف روز بروز اپنے مظالم میں اضافہ کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ضروری ہے کہ پاکستان اقوامِ عالم کو بھارتی مظالم سے آگاہ کرے اور انہیں بتائے کہ مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کے حق خود ارادیت کے لیے پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ بھارت کے ناپاک عزائم کی راہ میں صرف پاکستان واحد اور مضبوط ترین رکاوٹ ہے ،آرایس ایس کا اقلیتی گروہ بی جےپی پرقابض ہوگیاہے ۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ 45دن سے کرفیو کے باعث محصورہیں اور بھارتی جبر کا سامنا کررہے ہیں، ایسی صورتحال میں کشمیریوں سے یکجہتی کےلئے کانفرنس کےانعقاد پر میں پاکستان کے ایوانِ بالا کا شکرگزارہوں۔
کشمیر پر نیشنل پارلیمنٹیرینزکانفرنس کا انعقاد ہوا، کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے رہنے والے اذیت کا شکار ہیں، والدین کو نہیں پتہ کہ ان کے بچے واپس لوٹیں گے یا نہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمو د قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں دن رات کا کرفیو جاری ہے، 5 اگست کے اقدامات نے ہماری تشویش میں اضافہ کیا۔ ہم کشمیریوں کے پیچھے کھڑے ہیں۔ وزیر اعظم مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ اقوام متحدہ میں پیش کرنے جا رہے ہیں۔ دنیا کشمیر سے نظریں موڑ سکتی ہے پاکستان نہیں۔

انہوں نے کہا کہ 54 سال بعد مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا ہے، مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ قراردادوں کے مطابق حل ضروری ہے۔ پاکستان کے مؤقف پر جنیوا میں 58 ممالک نے اظہار یکجہتی کیا، 28 یورپی ممالک نے پہلی بار کشمیر کے مسئلے کو قرارداد سے جوڑا ہے۔ ہم نے تمام انسانی حقوق کی تنظیموں کو مسئلہ کشمیر پر متحرک کیا ہے۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے قومی پارلیمنٹیرنزکانفرنس برائےکشمیرسےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقلیتوں کے بغیر مکمل نہیں ہے،پاکستان میں اقلیتوں کو ہر قسم کا تحفظ حاصل ہے۔

فردوس عاشق اعوان کا مزید کہنا تھا کہ اقلیتوں کا کردار پاکستان کےساتھ جڑا ہے ،پاکستان کے ذمہ دار میڈیا کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں جس نے مظلوم کشمیریوں کی آواز کو مؤثر طریقے سے اجاگرکیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپی پارلیمنٹ میں12سال بعد مسئلہ کشمیر زیربحث آیا ،سیکیورٹی کونسل میں مظلوموں کے ساتھ ناانصافیوں کوسامنےلایاگیا۔

خیال رہے کہ اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب اقوام عالم کی توجہ مبذول کرانا اور اس کے خلاف عملی اقدامات کروانا ہے، دنیا کو یہ بتانا بے حد ضروری ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے جس کا سدباب بے حد ضروری ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں