اگر ہر لباس اپنی ایک الگ داستان سنائے، اور کبھی چونکائے اور کبھی ڈرائے، تو یقیناً ایسے ڈیزائنر ڈریس دیکھنا ہر کوئی چاہے گا۔
آرٹس کونسل کراچی میں نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے اسی پس منظر کے ساتھ اپنے تھیسز کے طور پہ ایسے ہی ملبوسات کی نمائش کی۔ طلبہ کے تخلیق کردہ ملبوسات میں جہاں مشرق و مغرب کا دل کش امتزاج تھا، وہیں ہر لباس اپنی ایک الگ داستان بھی سنا رہا تھا۔
کسی ملبوس میں فیمن ازم کا ایک باوقار رنگ تھا جو ماں، بہن اور بیٹی کے قابل قدر روپ کو وقار کے ساتھ پیش کر رہا تھا، تو کوئی لباس پیسوں کے ساتھ انسان کے گہرے تعلق کو بیان کر رہا تھا، اور کوئی لباس واقعی ڈرا دینے والا تھا کہ مرنے کے بعد انسانی جسم کی مختلف حالتوں کی داستان سنا رہا تھا۔

نمائش کی منتظم طیبہ سید نے کہا کہ یہاں ٹیکسٹائلز سمیت مختلف شعبوں سے لوگ آتے ہیں اور چار سال کے دوران جو وہ سیکھتے ہیں، اس کے مطابق وہ اپنے آئیڈیاز یہاں پیش کرتے ہیں اور یہیں سے کبھی کبھی ان کی ریکروٹمنٹ بھی ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کم وسائل میں طلبہ نے بہترین ملبوسات پیش کیے ہیں۔



ایک طالبہ نے بتایا کہ انھوں نے تین آبجیکٹس پر کام کیا جن میں آرکیٹیکچر، پلاسٹک اور ماربل شامل ہیں، طالبہ نے کہا ’’ساری کرافٹنگ میں نے خود کی ہے، اور جو گارمنٹس میں نے تیار کی ہیں ان میں لیبر کم سے کم ہے۔‘‘ ایک اور طالبہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے خاتون بائیکرز کے لیے ملبوسات ڈیزائن کیے ہیں، انھوں نے اپنے آئیڈیا کے بارے میں بتایا ’’میں نے تین چار چیزیں شامل کی ہیں جس میں پائیداری بھی ہے، آرام دہ بھی ہے اور اسٹائل بھی ہے۔‘‘
ایک طالبہ نے بتایا ’’میں ڈیزائن کردہ لباس میں عورتوں کی نزاکت کا خیال رکھا گیا ہے، جو عورتوں کو تحریک دیتا ہے کہ انھیں اپنے ہی دائرے میں رہتے ہوئے اپنی پہچان بنانی ہے۔‘‘ ایک طالبہ نے تو چونکا دیا یہ بتا کر کہ ان کی تھیم ’مردے کے گلنے سڑنے‘ کے عمل پر مشتمل ہے، یہ کہ مرنے کے بعد انسانی جسم کن چار مراحل سے گزر کر مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ ان مراحل کے حوالے سے انھوں نے اپنے ملبوسات ڈیزائن کیے۔
نمائش میں مختلف شرکا نے دل چسپی کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ و طالبات کے کام کو خوب سراہا۔
فیض اللہ خان اے آروائی نیوز سے وابستہ سینئر صحافی اور وارز ون ‘ ایکسپرٹ ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان قدرتی حدِ فاصل کا کام دینے والے قبائلی علاقے میں جاری جنگ اوراس سے ملحقہ امور پر خصوصی گرفت رکھتے ہیں




