غزہ: مقبوضہ مغربی کنارے کو ”ریاستی ملکیت” کے طور پر رجسٹر کرنے کے عمل کی اسرائیلی حکومت کی منظوری کے بعد عرب ممالک اور عالمی برادری کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اتوار کی شب منظور کیے گئے اس اقدام کا مقصد اراضی کے حقوق کی شفافیت کو ممکن بنانا اور قانونی تنازعات کا حل نکالنا ہے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام علاقوں میں غیر قانونی زمین رجسٹریشن کے بعد یہ قدم ضروری تھا۔
سعودی عرب، مصر، قطر اور اردن سمیت متعدد عرب ممالک نے اس فیصلے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اقدام ”مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک نئی قانونی اور انتظامی حقیقت مسلط کرنے” کی کوشش ہے جو خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا۔
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے بھی اس اقدام کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات ”امن کی بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور تنازع کو مزید بھڑکا سکتے ہیں۔”
یورپی یونین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو واپس لے۔ یورپی یونین کے امورِ خارجہ کے ترجمان انوار العانونی نے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسرائیل سے پالیسی واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
’’فیصلے مذہبی بنیادوں پر ہونے کی وجہ سے ایران کے ساتھ کوئی کامیاب معاہدہ نہیں کر سکا‘‘
رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ”الحاق کے عمل کے عملی آغاز اور فلسطینی ریاست کی بنیادوں کو کمزور کرنے” سے روکنے کے لیے مداخلت کرے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


