The news is by your side.

Advertisement

تحریک پاکستان کے عظیم رہنما نواب محمد اسماعیل خان کی 137ویں سالگرہ

کراچی: تحریک پاکستان کے عظیم رہنما نواب محمد اسماعیل خان کی آج 137 ویں سالگرہ کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

ڈائریکٹر قائد اعظم اکادمی اور قائد اعظم مزار مینجمنٹ بورڈ نے تحریک پاکستان کے عظیم رہنما نواب محمد اسماعیل خان کی سالگرہ سے متعلق تقریب کا انعقاد کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم مزار میجمنٹ بورڈ کے عہدیدار عبد العلیم شیخ نے کہا کہ ’اس پروگرام کے انعقاد کا مقصد تحریکِ پاکستان میں شامل عظیم ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔

تقریب میں نواب محمد اسماعیل خان کے پورے اسد آئی اے خان نے بھی شرکت کی اور شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’نواب صاحب ہمیشہ ایک قدم پیچھے رہ کر دوسروں کو آگے رکھتے تھے، ہمارے لیے افسوس کا مقام ہے کہ اُن کے نام اور خدمات سے کوئی واقف نہیں اور اُن کی جدوجہد کو فراموش کردیا گیا ہے۔

اسد آئی خان نے ماضی سے متعلق ایک قصہ سناتے ہوئے بتایا کہ ’آج جناح کیپ کے نام سے مشہور ٹوپی دراصل نواب صاحب استعمال کرتے تھے، جو انہوں نے قائد اعظم کو تحفے میں پیش کی اور پھر محمد علی جناح نے اسے اپنی روز مرہ زندگی کا حصہ بنایا‘۔

مزید پڑھیں: اردو زبان کا تحریک پاکستان میں کیا کردار تھا ؟

یہ بھی پڑھیں: جب مشہور شاعر ناصر کاظمی اپنے ایک دوست کی وجہ سے الجھن میں گرفتار ہوئے!

اس موقع پر بطور مہمان خصوصی شرکت کرنے والے دیوان یونیورسٹی کے وائس جانسلر ڈاکٹر اورنگزیب خان نے نواب محمد اسماعیل کی تحریکِ پاکستان کے لیے پیش کی جانے والی خدمات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ’ایسی شخصیات کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ تاریخ ایسے لوگوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے‘۔ اس تقریب کے اختتام پر نواب محمد اسماعیل خان کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔

نواب محمد اسماعیل خان کی زندگی پر مختصر نظر

نواب محمد اسماعیل خان کا تعلق افغان قبیلے بنگش سے تھا، انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر سے حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے علیگڑھ چلے گئے، بعد ازاں انہوں نے کیمرج یونیورسٹی سے  بی اے کی ڈگری حاصل کی اور پھر  وکالت کے شعبے کا انتخاب کر کے بیرسٹری کا امتحان دیا، جس میں انہوں نے نمایاں پوزیشن حاصل کی ۔

نواب محمد اسماعیل خان دس برس بعد اپنے آبائی شہر میرٹھ آئے، جس کے بعد انہوں نے یہاں وکالت کا آغاز کیا، 1917ء میں ہوم رول لیگ میں شرکت  کر کے سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔

انہوں نے 1919 حکومت کے منظور کردہ قانون رولٹ ایکٹ کے خلاف احتجاج کے دوران مرنے والوں کے انصاف کے لیے احتجاج کیا۔ یاد رہے کہ اس قانون ’رولٹ ایکٹ‘ کا مقصد انسانی حقوق اور شخصی آزادی کو سلب کرنا تھا، جس کے منظور ہوتے ہی قائد اعظم نے بھی مرکزی اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں