The news is by your side.

Advertisement

نواب شاہ واقعہ: گورنر سندھ نے ‘پولیس رٹ’ پر سوالات اٹھادئیے

کراچی: گورنر سندھ عمران اسماعیل نے نواب شاہ واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کیس کی جامع تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ضلع شہید بے نظیر بھٹو کے علاقے نواب ولی محمد کچے میں دو قبائل کے تنازعے پر بھنڈ برادری کے 5 افراد سمیت ایس ایچ او کے جاں بحق ہونے کا نوٹس لے لیا ہے۔

ترجمان گورنر ہاؤس کے مطابق گورنر عمران اسماعیل نے 6 افراد کے بہیمانہ قتل پر آئی جی سندھ کو خط تحریر کیا ہے اور المناک واقعہ پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، گورنر سندھ نے دلخراش واقعے پر اب تک ہونے والی پیش رفت رپورٹ طلب کرلی ہے۔

عمران اسماعیل نے اپنے بیان میں کہا کہ اس طرح کے واقعات سے ایک جانب لوگوں میں شدید خوف وہراس پھیل رہا ہے اور دوسری طرف علاقے میں پولیس کی رٹ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نواب شاہ فائرنگ: لواحقین نے لاشوں کے ہمراہ دھرنا دے دیا

یاد رہے کہ دو روز قبل نواب شاہ کے علاقے نواب ولی محمد کچے میں زمین کی ملکیت پر بھنڈ اور زرداری برادریوں کے درمیان فائرنگ میں ایس ایچ او سمیت 6 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

دو روز گزرنے کے باوجود تاحال مرکزی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے جس کے باعث بھنڈ برادری کے افراد نے لاشوں کے ہمراہ دھرنا دے رکھا ہے، جس کے باعث کراچی سے پنجاب جانے والی ٹریفک کو بند کردیا گیاہے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ نامزد افراد کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کیا جائے اور ملزمان کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے۔

گذشتہ روز وفاقی وزیر اسد عمر نے بھی نوابشاہ کے نواح میں پولیس اہلکار سمیت 6 افراد کے قتل پر شدید رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ واقعہ سندھ میں حکومتی عملداری کے بکھرنے کی ایک اور مثال ہے، پولیس گردی سے لشکر کشی تک بربریت کی داستانیں زرداری راج کی پہچان بن چکی ہے۔

اسدعمر نے وزیراعلیٰ سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ ڈاکوؤں کی خاموش سرپرستی کی بجائے حکومتی مشینری عوام کےتحفظ پر لگائیں، زرداری اور حواریوں کا سندھ میں مستقبل تاریک ہے، وتیرہ نہ بدلا تو انجام تیز ترہوسکتاہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں