The news is by your side.

Advertisement

شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی

اسلام آباد : احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شریف خاندان کے خلاف احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب ریفرنس کی سماعت کی۔

شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کا بیان مکمل ریکارڈ نہ کیا جا سکا جبکہ ملزمان کے وکیل کی جانب سے واجد ضیاء کے بیان پرباربار اعتراض کیا گیا۔

جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ یہاں پرجے آئی ٹی رپورٹ کے دفاع کے لیے موجود ہوں، اہم کیس ہے پہلے دن سے میں اس کیس سے جڑا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میرےاور پراسیکیوٹر کے بات کرنے میں فرق ہوسکتا ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ جو بھی دستاویزات اکٹھی کیں وہ ریکارڈ پر لائیں، رائے ابھی نہ دیں ، آپ کی رائےکامرحلہ بعد میں آئے گا۔

نوازشریف کی وکیل عائشہ حامد نے کہا کہ واجد ضیاء پھر لسٹ کو دیکھ کر بیان ریکارڈ کرا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ لسٹ سے پڑھنا ہےتوہمیں بھی دیں جبکہ واجد ضیاء رائے نہیں دےسکتے۔

سابق وزیراعظم کی وکیل نے کہا کہ واجد ضیاء الگ الگ دستاویزات ریکارڈ کا حصہ بنا رہے ہیں، وقت کم ہے شواہد کو ترتیب میں نہیں یا جا سکتا، میں نے جوشواہد اکٹھے کیے میرے طریقے سے ہی لیے جائیں۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ بہت بڑی رپورٹ ہے میرے حساب سے بتانے دیں جس پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا کہ آپ کو ایک دن پہلے پراسیکیوشن ٹیم کے ساتھ بیٹھنا چاہیے تھا۔

واجد ضیاء نے کہا کہ درخواستوں کے ساتھ منسلک دستاویزکوریکارڈ کا حصہ بنانا چاہتا ہوں جس پرمعزز جج نے ریمارکس دیے کہ کسی حد تک گواہ کی رائے کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ سمجھا سکتا ہے۔

جے آئی ٹی کے سربراہ کی جانب عرفان منگی کے دستخط شدہ دستاویزات پرمریم نواز کے وکیل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ عرفان منگی عدالت میں بطور گواہ موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ واجد ضیاء عرفان منگی کی دستخط شدہ دستاویزات عدالتی ریکارڈ میں نہیں لاسکتے، واجد ضیاء صرف وہ دستاویزات پیش کرسکتےہیں جن پران کےدستخط ہیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ واجد ضیاء جے آئی ٹی کےسربراہ ہیں یہ دستاویزات پیش کرسکتے ہیں۔

عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی کردی جبکہ جے آئی ٹی سربراہ واجدضیاء کل بھی اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔

احتساب عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ کو بطورثبوت پیش کرنے کے اعتراض پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مکمل رپورٹ بطور شواہد عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے سے متعلق مریم نواز کے وکیل کی درخواست جزوی طور پر منظور کرلی۔

عدالت نے کہا کہ جے آئی ٹی کا تجزیہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنے گا اور جے آئی ٹی میں ریکارڈ گواہوں کے بیانات عدالت میں قلمبند نہیں ہوں گے۔

احتساب عدالت نے کہا کہ نوازشریف کا واجد ضیاء کے بیان پراعتراض بھی نوٹ کیا جائے گا۔

مریم نواز کے وکیل نے دستاویزات پڑھ کر واجد ضیاء کے بیان ریکارڈ کرانے پراعتراض کیا جس پر عدالت نے ہدایت کی کہ واجد ضیاء صرف وہ دستاویزات ریکارڈ کا حصہ بنوائیں جو اکٹھی کیں۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ سب کچھ گواہ پرچھوڑ دیا جائے، انہوں نے نیب پراسیکیوشن کو ہدایت کی کہ گواہ کوبٹھا کردستاویزات ترتیب دیں۔

معزز جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے کہ گواہ کو عدالتی ریکارڈ پرلائیں، صرف کیس سے متعلق چیزوں کوعدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا۔

مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ کوئی اورکیس ہوتا توکہتا گواہ کی تیاری کے لیے پراسیکیوشن کو وقت دیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اصل میں آپ کو گواہ کی زیادہ تیاری پراعتراض ہے۔

اس سے قبل مریم نوازکے وکیل نے احتساب عدالت میں قانونی حوالے دیتے ہوئے کہا تھا کہ صرف والیم 3، 4 اور5 ہی اس کیس سےمتعلق ہیں جبکہ جے آئی ٹی رپورٹ کے دیگروالیم، کئی شہادتیں قابل قبول نہیں ہیں۔

امجد پرویز کا کہنا تھا کہ تفتیشی خود سے بنائی دستاویزات کوشواہد کے طورپرپیش نہیں کرسکتا، جے آئی ٹی رپورٹ کی صداقت کوچیلنج کرنے کا حق سپریم کورٹ نے دیا۔

مریم نواز کے وکیل نے کہا تھا کہ جےآئی ٹی کا کون سا والیم کس ریفرنس سے متعلقہ ہے یہ عدالت نے دیکھنا ہے جبکہ نیب پراسکیوٹر کی جانب سے مریم نوازکے وکیل کے اعتراض پر مخالفت کی گئی۔

نیب پراسیکیوٹرسردار مظفر نے کہا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ ہمارے پبلک دستاویزات ہیں اور ہمارا اہم ترین ثبوت ہے، 3 والیم متعلقہ ہیں تو باقی کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا تھا کہ واجد ضیاء کبھی بھی جے آئی ٹی کے تحقیقاتی افسرنہیں رہے، اس حوالے سے وکیل صفائی کےاعتراضات غیرمتعلقہ ہیں۔

پراسیکیوٹرنیب نے کہا تھا کہ جے آئی ٹی کی تشکیل، رپورٹ کسی فورم پرچیلنج نہیں کی گئی، رپورٹ اب پبلک دستاویزات ہیں جبکہ واجد ضیاء جےآئی ٹی سربراہ تھے،عدالت نے تفتیشی افسر مقررنہیں کیا۔

سردار مظفر نے کہا تھا کہ جے آئی ٹی کا ملزمان نے مطالبہ کیا، پھرپیش ہوئے، شواہد بھی دیے اور نیب نے دوران تفتیش واجد ضیاء کا بیان ریکارڈ کیا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو حاضری لگانے کے بعد جانے کی اجازت دی تھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر جے آئی سربراہ واجد ضیاء نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز میں الگ الگ مواد دینے میں مشکل درپیش ہے ایک ساتھ جے آئی ٹی رپورٹ کو عدالتی ریکارڈ کاحصہ بنایا جائے۔

مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ مکمل عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنائی جاسکتی، رپورٹ کا بڑا حصہ تجریوں، تبصروں پرمشتمل ہے۔


العزیزیہ ضمنی ریفرنس: شریف خاندان کے خلاف گواہوں کے بیان قلم بند


واضح رہے کہ جے آئی ٹی سربراہ 21 مارچ کوفلیگ شپ اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنسز میں بیان قلمبند کراوئیں گے، ان تینوں ریفرنسز میں واجد ضیاء کے سوا نیب کے تمام گواہوں کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں