ہم عدالت کی جانب سے متنازعہ فیصلہ نہیں مانتے، نواز شریف: Nawaz shareef
The news is by your side.

Advertisement

ہم عدالت کے متنازع فیصلوں کو نہیں مانتے، نواز شریف

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر مجھے نااہل کیا گیا، ہم عدالت کے متنازع فیصلوں کو نہیں مانتے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا، نواز شریف کا کہنا تھا کہ عوام نے میرے خلاف فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا، آئندہ الیکشن میں قوم اپنا فیصلہ سنائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر ناہلی کا فیصلہ کیا گیا، اگر میں باہر نہ نکلتا تو کیا گھر بیٹھ جاتا؟ موجوہ صورت حال افسوس ناک اور غور طلب ہے، ماضی میں بھی سیاست دانوں کے ساتھ نارواں سلوک کیا گیا۔

نااہل وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی میں غیر آئینی حکومتوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا رہا، اور سیاست دانوں کو دیوار سے لگانے کی ہمیشہ کوشش کی گئی، لاکھ چاہنے کے باوجود تاریخ کو دفن نہیں کیا جاسکتا۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ متنازع فیصلے کو میں نہیں مانتا اور نہ ہی عوام کا حق کسی کو چھیننے دیں گے، مجھ پر کوئی خرد برد اور خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام نہیں، قانون کو نظر ثانی کے لیے پارلیمنٹ میں بھیجنا چاہیے تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ (ن) لیگ بڑی سیاسی جماعت ہے لیکن ہمیں ہی سینیٹ الیکشن سے باہر کر دیا گیا، ہم اس قسم کے اقدامات اور فیصلے کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔

علاوہ ازیں نواز شریف نے نئے قائم مقام پارٹی صدر اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو صوبے میں تیزی سے کام کرنے اور بروقت منصوبے کی تکمیل پر مبارک باد بھی پیش کیا۔

خیال رہے آج (ن) لیگ کی جانب سے راجہ ظفر الحق کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں نواز شریف کو تاحیات قائد جبکہ شہباز شریف کو پارٹی کا قائم مقام صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں