site
stats
اہم ترین

ملک کیسے آگے بڑھےگا، یہ کھیل تماشا 70سال سے ہوتا چلا آیا ہے،نوازشریف

اسلام آباد : سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ملک کیسے آگے بڑھے گا، 70سال سےیہی ہوتارہاہے، نوازشریف آمر کا منظور کرایا گیا قانون اس کے منہ پر دے مارا گیا، مشرف نے میرا راستہ روکنے کے لئے کالاقانون بنایا، آپ مجھے واپس لارہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق نااہل وزیراعظم نوازشریف نے ن لیگ جنرل کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بار بار مجھے بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی، میں بھی کیا چیز ہوں آپ مجھے دخل کردیتے ہیں، میں سوچتارہا مجھے بے دخل کرنےکی کوشش ہوتی رہی ،آپ داخل کرتے رہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کارکنوں کے نعروں کا جواب دیتے ہوئےآئی لو یو کہا ،انھوں نے کہا لگتا ہے یہ شیروں اور شاعری کی محفل ہے، شہبازشریف نے شعرسنائے تو سعدرفیق نے جوابی شعر سنائے، نوازشریف نے بھی شعر سنایا ، میرے دل میں بھی غصہ ہے، اگریہ کہوں کہ غصہ نہیں تو یہ منافقت ہے، دل بغض وحسدسےرنجورنہ کر،یہ نور خدا ہے اسے بے نور نہ کر، نااہل وکمینےکی خوشامدسےاگرجنت بھی ملےتو منظورنہ کر۔

مشرف نے میرا راستہ روکنے کے لئے کالاقانون بنایا، آپ مجھے واپس لارہے ہیں

نواز شریف نے کہا کہ میرےایک ایک کارکن کا بھی یہی اصول ہوناچاہیے، آمر کا منظور کرایا گیا قانون اس کے منہ پر دے مارا گیا، آج آمر کا اس کا قانون واپس کررہے ہیں، مشرف نے میرا راستہ روکنے کے لئے کالاقانون بنایا، آپ مجھے واپس لارہے ہیں،کارکنوں کوخراج تحسین پیش کرتاہوں۔

نااہل وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کوئی لالچ نہیں کوئی ذاتی مفاد نہیں،کوئی غلط کام نہیں کیا، مجھے نااہل کیا گیا تو وجہ مجھ سے زیادہ آپ جانتے ہیں، کارکنوں نےمجھے بہت بڑے اعزاز سے پھر نوازا ،ماؤں ،بہنوں ،بزرگوں اورجوان راستےمیں ساتھ ملتے رہے، میرے پاس الفاظ نہیں کس طرح ان کا شکریہ اداکروں ، دعاکرتا ہوں یہ لوگ ملک کی ترقی میں اپناحصہ ڈالیں۔


مزید پڑھیں : نوازشریف بلامقابلہ مسلم لیگ ن کے صدر منتخب


انھوں نے مزید کہا کہ تمام صوبوں سےآج یہاں بھرپورنمائندگی ہے، دعاکریں اللہ مجھے یہ بھاری ذمےداری نبھانے کی توفیق عطا فرمائے، مشکلوں کاجواں مردی سےمقابلہ کرنےکی توفیق دے، تاریخ بتاتی ہے مسلم لیگ نےکھٹن حالات میں آزادی کی جنگ لڑی اورجیتی،مقاصد کی لگن کے سامنے کوئی قوت نہ ٹھہرسکی،پاکستان عظیم قوت بن کر ابھرا۔

پاناما نہیں اقامہ پر وزیراعظم کو نکال دیا جاتا ہے

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ آج پاکستان دنیاکی ساتویں ایٹمی قوت اورتواناملک کی حیثیت سےقائم ہے، جو ملک کو مضبوط بناتے ہیں آپ نے دیکھا ان سے کیاسلوک ہوتاہے، ان کوپھانسی دی جاتی ہے ملک بدر کیاجاتا ہے، پاناما نہیں اقامہ پر وزیراعظم کو نکال دیا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ پر تنقید کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ پاناما میں کچھ نہیں ملاتھا تو قوم کو صاف صاف بتادیتے، بتا دیتے پاناما میں کچھ نہیں ملا،اقامے پر نکال رہےہیں، ایک پیسہ ناجائزنہیں کمایا،کوئی خوردبردنہیں کی، پاناماآیا لیکن اس میں کچھ نہیں، بتا دیتے صرف اقامہ ہے، یہ کھیل تماشا 70سے ہوتا چلا آرہا ہے۔

بتا دیتے پاناما میں کچھ نہیں ملا،اقامے پر نکال رہےہیں

انھوں نے کہا کہ حقیقت نہیں بھولنی چاہیےکہ آزادی ایک قیمت مانگتی ہے، سربلندہوکرجیناہےتو اس کی قیمت کے لیے تیاررہناچاہیے، آزادی اور قومی وقار کا تقاضہ ہے، اپنی کمزوریوں کاجائزہ لیں، سوچیں کیا اسباب تھے کہ ہم آدھاملک کیوں گنوابیٹھے، کیا اسباب تھے اپنے ساتھ آزاد ہونے والے ملکوں سے سالوں پیچھے رہ گئے، خود احتسابی سے اپنے عمل میں اصلاح کی جاسکتی ہے، اسے اپنا گھر ٹھیک کرنا کہتے ہیں۔

ہم نے سقوط ڈھاکا جیسے سانحے سے بھی کچھ نہیں سیکھا

نااہل وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جوقومیں بدلتے تقاضوں کو نظرانداز کرتی ہیں وقت ان کا انتظار نہیں کرتا، آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پر اڑنا، منزل یہی کٹھن ہے، قوموں کی زندگی میں
سقوط ڈھاکا جیسے سانحے قوموں کو ہلاکر رکھ دیتے ہیں، سقوط ڈھاکا کے بعد بھی وہی کرتےرہے جوپہلےکیا، ہم نے سقوط ڈھاکا جیسے سانحے سے بھی کچھ نہیں سیکھا۔

کرپشن کےجرم میں نہیں بیٹےسےتنخواہ نہ لینےکےجرم میں نااہل کیاگیا

سابق وزیراعظم نے کہا کہ 3بار عوامی مینڈیٹ حاصل کرنےکے بعد نااہل قرار دیا گیا، کرپشن کےجرم میں نہیں بیٹےسےتنخواہ نہ لینےکےجرم میں نااہل کیاگیا، کسی ملک میں کبھی ایسا ہوتا دیکھا ہے؟کبھی ایسا سنا ہے؟ اس بات کی بھی تحقیق کرلیں کہ وزارت عظمیٰ کی تنخواہ بھی لیتاہوں یانہیں۔

انکا کہنا تھا کہ میرے کیے گئے سوالات میں سے ایک کا بھی جواب نہیں ملا، ایک اور بڑا سوال بھی رکھنا چاہتا ہوں، بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر میں صادق اور امین نہیں رہا، تمیزالدین سے لے کر مجھ تک کیسے کیسے عظیم فیصلے سامنے آئے، مولوی تمیزالدین اور بے نظیرقتل کیس کے فیصلے تک ایک لمبی تاریخ ہے۔

نوازشریف کا مزید کہنا تھا کہ آئین کی خلاف ورزی کرنے والے صادق بھی رہے اورامین بھی، 33سال حکومت کرنے والوں کا ایک بھی ایساکام نہیں جس کا نوٹس لیا ہو، 70سال کی تاریخ بتارہی ہےہمارامسئلہ کیاہے،  آج بھی خود بدلنے کی کوشش نہ کی تو پاکستان بھی ہمیں معاف نہیں کرےگا، کیا آپ سب میرے ساتھ حالات بدلنے کی کوشش کریں گے۔

نااہل وزیراعظم نے کہا کہ میں نے قومی مکالمے کی تجویز دی ہے،عوام کاحق حکمرانی بحال کیاجائے، حق حکمرانی عوام کے پاس امانت ہے،خیانت کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، دروازےکی کنجی صرف 20کروڑعوام کے پاس ہو۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top