کشمیر کے بغیر بھارت سے بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں، نواز شریف لندن پہنچ گئے -
The news is by your side.

Advertisement

کشمیر کے بغیر بھارت سے بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں، نواز شریف لندن پہنچ گئے

لندن: وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ کوئی بھی واقعہ ہوتے ہی اس کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کردینا ذمہ دارانہ رویہ نہیں، بھارت کو پاکستان پر الزام عائد کرنے سے قبل اپنے کردار پر نگاہ ڈالنی چاہیے۔

Uri attack may be reaction to Indian atrocities… by arynews

یہ بات انہوں نے لندن پہنچنے کے بعد لوٹن ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفت گو کرتے ہوئے کہی، وہ لندن میں‌ تین دن قیام کریں‌گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں اڑی حملے کا محض 12 گھنٹے میں پاکستان پر الزام عائد کردینا غیر دانش مندانہ عمل ہے، کوئی بھی عقل مند شخص اسے تسلیم نہیں کرے گا، اڑی حملہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا رد عمل بھی تو ہوسکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں نے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو بہترین انداز سے اجاگر کیا، مخصوص وقت میں جو باتیں کرسکا وہ کردیں، کشمیر میں ایک سو آٹھ افراد کی شہادت کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

نواز شریف نے کہا کہ بھارت کی جانب سے بلوچستان کا شوشہ چھوڑا گیا اور اس شوشے کو کوئی تسلیم نہیں کرتا، بھارت اپنے مظالم پر بات نہیں کرتا اور الزامات عائد کردیتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ نومبر میں سارک سمٹ سے متعلق تیاری کررہے ہیں، مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں اوریہ بات سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کمشیر پر بات کیے بغیر پاک بھارت بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔

تحریک انصاف کے رائے ونڈ مارچ میں محاذ آرائی کی سیاست کے سوال پر انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے بیان دے دیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو ہدایت کردی ہے کہ وہ کسی دھرنے کے راستے میں نہیں آئیں اور اجتناب نہ کریں اور دھرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے، پارٹی قیادت کی ہدایت پر سو فیصد عمل کیا جائے گا۔

وزیراعظم نواز شریف نے صحافی کی جانب سے متحدہ قائد الطاف حسین کے معاملے پر پوچھے گئے سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا جب کہ ایک اور صحافی کی جانب سے آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا سوال کیا گیا تو انہوں نے ’’کوئی اور سوال؟؟‘‘ کہہ دیا۔

دریں انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ چند روز بعد آزاد کشمیر کا دورہ کریں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں