The news is by your side.

Advertisement

نوازشریف کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ، نیب کے وکیل کی ملزم کے لیے صحت یابی کی دعا

طبیعت جیسے بھی ہو پر علاج ہونا چاہیے، عدالت

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوازشریف کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ طبیعت جیسی بھی ہو علاج کی اجازت ہونا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں نوازشریف کی جانب سے دائر درخواست ضمانت پر مقدمے کی سماعت ہوئی جس کے دوران ملزم کے وکیل نے کہا کہ ’نوازشریف کو انجیوگرافی کی ضرورت ہے‘۔

دورانِ سماعت نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے جیل کے قوانین پڑھ کر سنائے جس میں اُن کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ایسی بیماری ہو جس سے دیگر قیدیوں کےمتاثرہونےکاخدشہ ہو تو ملزم کو قانون کے مطابق ضمانت  دی جاسکتی ہے۔

’ہنگامی طورپر بھی علاج کابندوبست جیل  میں  بھی موجود ہے، نوازشریف کو اگرجیل  سے باہر نکالیں تو بھی انہیں جیل  جانے کا ڈر ہوگا‘۔

مزید پڑھیں: جناح اسپتال میں شہباز، نواز ملاقات، علاج پر تحفظات، میڈیکل بورڈ کی سفارشات پر عمل درآمد کا مطالبہ

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو عارضہ قلب کی بیماری پہلے سے ہی وہ دوران قید بیمار نہیں ہوئے، اللہ نوازشریف کو صحت دے۔ اس موقع پر جج جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ ’کیا نیب کی یہ دعا نوازشریف کے لیے ہی ہے’۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے جواب دیا کہ ’جی نیب کی دعا اُن کے لیے ہی ہے، نوازشریف کو کوئی بھی تکلیف ہو تو فوری علاج کرایا جاتا ہے،  جیل حکام کی ہدایت پر ڈاکٹرز باقاعدہ معائنہ کرتے ہیں، نوازشریف کو کوئی ایسی پیچیدہ بیماری نہیں کہ جس کی وجہ سے جان جانےکا خطرہ ہو۔

اللہ نوازشریف کو صحت دے، نیب

کیا نیب کی دعا نوازشریف کے لیے ہے؟ جج

جیل ڈاکٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جیل حکام کی ہدایت پر نوازشریف کا مکمل چیک اپ کیا جاتا ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق نوازشریف کو کوئی پیچیدہ بیماری نہیں ہے، کسی ملزم  کی تاریخ میں6 میڈیکل بورڈ تشکیل نہیں دیے گئے۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ جب نوازشریف کانام ای سی ایل میں ہےتو وہ بیرونِ ملک کیسے جاسکتے ہیں؟  ضمانت نہ ہو تو پھر بھی نوازشریف ملک سےباہرنہیں جاسکتے۔

یہ بھی پڑھیں: جیل بھیجا جارہا ہے، جیل جانے کی بجائے اسپتال میں چیک اپ کرانا چاہتا ہوں ، نوازشریف

جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ کسی بھی شخص کو اپنی زندگی کا علم نہیں، عدالت کیس کا فیصلہ دلائل سننے کے بعد میرٹ پر کرے گی، نیب کو کیسے معلوم کہ آئندہ ہفتے کس کو کیا بیماری ہوجائے، میڈیکل بورڈکے معاملے نیب سنجیدہ اقدامات نہیں کررہی،  نوازشریف کی طبیعت جیسے بھی ہو پر علاج ہونا چاہیے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں