site
stats
پاکستان

ڈان لیکس : حکومت کا معاملہ حل کرنے کے لیے رابطے کرنے پر غور، مریم نواز کی تردید

اسلام آباد: ڈان لیکس کے متعلق نوازشریف کی زیرصدارت ہونے والا اجلاس میں  وفاقی وزیر داخلہ اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو معاملے حل کروانے کے لیے ٹاسک دے دیا گیا جبکہ مریم نواز نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے کسی کو کوئی ٹاسک نہیں دیا۔

نمائندہ اے آر وائی انجم وہاب کے مطابق  نوازشریف کی زیرصدارت ہونے والا ڈان لیکس سے متعلق اجلاس ختم ہوگیا، اجلاس میں شرکت کے بعد چوہدری نثار علی خان اور اسحاق ڈار لاہور روانہ ہوگئے ہیں۔

وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں شبہاز شریف، حمزہ شہباز ، فواد حسن فواد سمیت دیگر اہم رہنماؤں نے شرکت کی اور ڈان لیکس سے متعلق پیدا ہونے والی صورتحال سمیت ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ذرائع کے مطابق ڈان لیکس سے متعلق پاک فوج کو اعتماد میں لینے کے لیے وزیراعظم نے دو شخصیات کو معاملہ حل کروانے کا ٹاسک دے دیا، چوہدری نثار اور شہبازشریف کل اسلام آباد روانہ ہوکر اعلیٰ قیادت سے ملاقات کریں گے۔

اجلاس میں طے کیا گیا کہ ڈان لیکس سے پاک فوج کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کو من و عن تسلیم کیا جائے اور کمیشن کی رپورٹ کے بعد پیدا ہونے والے معاملات کو جلد از جلد طے کیا جائے۔

قبل ازیں وزیراعظم نوازشریف سے شہبازشریف اورحمزہ شہباز نے ملاقات کی اور ڈان لیکس معاملے پر پیدا ہونے والی صورت حال پر گفتگو کی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ کیا جسے جاری اجلاس میں وفاقی وزراء سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔

اے آر وائی نیوز لاہور کے بیورو چیف عارف حمید بھٹی کے مطابق جاتی امرا میں جاری اجلاس میں فواد حس فواد کو خوصوی طور پر طلب کیا گیا ہے جن کے اعلیٰ شخصیت سے تعلق کو استعمال کیا جائے گا تاکہ حکومت اس بحران سے نکل سکے۔

عارف حمید بھٹی کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی وزراء کی رائے ہے کہ اس معاملے پر حکومت کسی قسم کا دباؤ نہ لے اور اس سلسلے میں جو اقدامات اب تک کیے گئے ہیں اس پر قائم رہے اور تمام پارلیمینٹیرین اور وزراء وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مریم نواز ٹوئٹ

بعدازاں وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اجلاس سے متعلق ایک ٹوئٹ کیا جس میں انہوں نے کہا کہ میڈیا پر نشر ہونے والی خبریں غلط ہیں اور نوازشریف نے کسی کو کوئی ٹاسک نہیں دیا۔

مریم نواز کے ٹوئٹ پر ردعمل

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ’’مریم نواز نے ٹوئٹ کیا تو انہیں کسی اور کے ٹوئٹ پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، مریم کو چاہیے کہ وہ وزیراعظم کے ترجمان کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس اہم معاملہ ہے اس پر حکومت کو کھل کر اپنا مؤقف سامنے لانا ہوگا۔

تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا کہ ’’نوازشریف نے کل ہی خواتین کو سیاست میں حصہ نہ لینے کا مشورہ دیا تھا اُس کے باوجود مریم نواز نے وزراعظم کے ترجمان کی حیثیت سے بیان دیا جس اس بات کی غمازی ہے کہ حکومت کی رٹ بالکل ختم ہوچکی کیونکہ ججز اور فوج وزیراعظم کے مؤقف کو مسترد کرچکے ہیں‘‘۔

فواد چوہدری نے مشورہ دیا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے نوازشریف کو چاہیے کہ وہ استعفیٰ دے کر دوبارہ انتخابات میں حصہ لیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top