The news is by your side.

Advertisement

نوازشریف کی نااہلی، کمرہ عدالت کا آنکھوں دیکھا احوال

اسلام آباد : پامانا لیکس کیس کے فیصلے کے موقع پر نوازشریف کی نااہلی کا حکم آتے ہی سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک میں شور مچ گیا جسٹس کھوسہ نے’’آرڈر، آرڈر‘‘ کہہ کرلوگوں کو خاموش کروایا۔

تفصیلات کے مطابق28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ کے کمرہ نمبرایک میں پاناما کیس کا اہم اور بڑا فیصلہ سنایا گیا۔ مذکورہ فیصلہ سپریم کورٹ کے سینئرجج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سنایا۔

جسٹس آصف کھوسہ کمرہ عدالت میں کچھ تاخیر سے پہنچے جس پر انہوں نے پر معذرت بھی کی، ساڑھے گیارہ بجتے ہی کمرہ عدالت میں موجود لوگوں کے دل کی دھڑکنیں بے قابو ہونے لگیں لیکن ابھی صبرکے کچھ لمحات باقی تھے۔

اگلا آدھا گھنٹہ قیامت کا انتظار رہا، تقریباً بارہ بجے پانچوں ججز اپنی نشستوں پر براجمان ہوگئے، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تاخیرکی معذرت کرتے ہوئے کہا کہ بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر یہ تاخیر ہوئی۔


مزید پڑھیں: پاناما کیس: وزیراعظم نوازشریف نا اہل قرار


جسٹس کھوسہ نے کہا کہ یہ فیصلہ جسٹس اعجاز افضل سنائیں گے، جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل نے پہلے نیب ریفرنس کا فیصلہ سنایا اس کے بعد وہ جیسے ہی نوازشریف کی نااہلی کے پیراگراف پر پہنچے تو عدالت میں شور مچ گیا جس پر جسٹس آصف کھوسہ نے آرڈ آرڈ کہہ کر خاموشی کروائی۔

جسٹس اعجازافضل نے فیصلہ مکمل کیا تو اس کے بعد جسٹس آصف کھوسہ نےعدالتی حکم  پڑھ کرسنایا، عدالتی حکم میں بھی نوازشریف کو نااہل کرتے ہوئے نیب کو ریفرنس دائر کرنے کاحکم دیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں