سابق وزیراعظم نوازشریف کی آج لندن روانگی کا امکانNawaz sharif
The news is by your side.

Advertisement

سابق وزیراعظم نوازشریف کی آج لندن روانگی کا امکان

اسلام آباد : سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی آج لندن روانہ ہونے کا امکان ہے جبکہ کلثوم نواز کو طبیعت میں بہتری پر ایمرجنسی سے کمرے میں منتقل کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کی آج لندن روانگی کا امکان ہے، لندن واپسی کے لیے ویزے کی مدت میں دس سال کی توسیع کرالی جبکہ احتساب عدالت نے انہیں تاحال حاضری سے استثنی نہیں دیا ہے۔

کلثوم نواز کی طبعیت تاحال خراب ہے جس کے باعث امکان ہے کہ نواز شرف آج ہی لندن روانہ ہوجائیں گے۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم نوازشریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی طبیعت ناساز ہونے پر دوبارہ اسپتال منتقل کیا گیا، طبیعت میں بہتری پر ایمرجنسی سے کمرے میں منتقل کردیا گیا ہے۔

حسین نواز نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ والدہ کا علاج چل رہا ہے، صورتحال ایسی ہے کہ نواز شریف لندن آئیں گے۔


مزید پڑھیں : ڈاکٹرز والدہ کی طبیعت کی بہتری کیلئے کوشاں ہیں ،مریم نواز


گذشتہ روز مریم نواز نے ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ امی کی طبیعت پھر خراب ہوگئی، مریم نواز نے دعاؤں کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز کوشش کر رہے ہیں کہ کلثوم نواز کی طبیعت بہتر ہوجائے۔

دوسری جانب احتساب عدالت نےنواز شریف اور انکے بچوں کے خلاف مقدمات کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے، جس میں بتایا کہ نواز شریف کی جانب سے دی گئی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ کیا جانا باقی ہے۔

نیب ریفرنسز میں پیش ہونا ہے احتساب عدالت سےحاضری کا استثنیٰ نہ ملنے کے باوجود سابق وزیراعظم دوبارہ لندن جانے کا فیصلہ کیا ہے

واضح رہے گزشتہ روزسابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف پر فرد جرم عائد کرنے کے لیےاحتساب عدالت نے 2 اکتوبر کی تاریخ دی تھی جبکہ حسن، حسین اور مریم نواز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں گرفتار کرکے 2 اکتوبرکو پیش کیا جائے۔


نوازشریف پرفرد جرم 2 اکتوبرکوعائد کی جائے گی


جس کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف نے  صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عدلیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2018 میں بڑا فیصلہ آئے جو مولوی تمیز الدین سمیت تمام فیصلوں کو بہا کرلےجائے گا۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں انصاف اور قانون کے تقاضے  پامال ہورہے ہیں،آخرمیں فیصلہ یہ آیا ہے کہ ایک روپے کی بھی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ مجھےنااہل کرنا ہی تھا اسی لیے اقامہ کی آڑلی گئی، یہ اعتراف ہی کرلیا جاتا کہ پانامامیں سزانہیں دی جاسکتی، اسی لیے اقامہ پر نااہل کیا گیا، پانامامیں سزانہیں دی جاسکتی تھی اسی لیے اقامہ پر نااہل کردیا گیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں