The news is by your side.

Advertisement

العزیزیہ ریفرنس: نوازاورشہباز کی ملاقات ختم، لائحہ عمل طے

اسلام آباد: سابق نا اہل وزیراعظم نواز شریف اور اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کے درمیان جاری ملاقات ختم، العزیزیہ فیصلہ خلاف آنے کی صورت میں احتجاج کا راستہ اپنایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں العزیزیہ ریفرنس کا فیصلہ آنے کا بعد لائحہ عمل طے کرلیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فیصلہ مخالفت میں آنے پر مسلم لیگ ن عدالتی فیصلے کے خلاف عوام کو سڑکوں پر لانے اور احتجاج کرنے کی حکمت عملی اپنائے گی، نواز شریف کے جیل جانے کی صورت میں پارٹی امور چلانے سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

نوازشریف کے خلاف ریفرنسز پرفیصلہ کل سنایا جائے گا

دونوں بھائیوں کےدرمیان یہ ملاقات وزرأ کالونی میں ہوئی جس کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف مری روانہ ہوگئے۔ نواز شریف کے خلاف دائر کردہ اس ریفرنس کا فیصلہ کل احتساب عدالت کے جج ارشد ملک سنائیں گے۔

امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف نواز شریف اور ان کے وکلاء کو کمرہ عدالت میں جانے کی اجازت ہوگی، غیر متعلقہ افراد کو کمرہ عدالت میں جانے نہیں دیا جائے گا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں شریف برادران کی ون آن ون ملاقات

یاد رہے کہ نواز شریف اس سلسلے میں تشکیل پانے والی پہلی جے آئی ٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر ہی نا اہل ثابت ہوگئے تھے۔

سپریم کورٹ نے العزیزیہ،فلیگ شپ ریفرنسز پر فیصلے کے لئے احتساب عدالت کی آٹھویں بار ریفرنسزمیں توسیع کی استدعا منظور کرتے ہوئے 24 دسمبر کی ڈیڈ لائن دی تھی اور کہا تھا کہ احتساب عدالت دونوں ریفرنسزپر24دسمبر کو فیصلہ سنائے۔

اس دوران نواز شریف کے وکیل نے کیس چھوڑنے کی بھی کوشش کی تھی جس پر سپریم کورٹ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ مقدمے کو ہر صورت انجام تک لے جایا جائے۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے جمعے کی شام العزیزیہ کیس کا فیصلہ مرتب کرنا شروع کیا تھا ۔ اس موقع پر احتساب عدالت کے عملے کی ہفتہ وار چھٹیاں منسوخ کرکے اتوار کو بھی کام کیا جاتا رہا۔

خیال رہے کہ تین روز قبل سابق وزیراعظم نوازشریف نے شہباز شریف سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ون آن ون ملاقات کی تھی جس میں احتساب عدالت کے متوقع فیصلے سمیت دیگر امور پرتبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

شریف برداران کی ملاقات میں عدالتی فیصلہ حق میں آنے پرخاموشی اختیار کرنے کے حوالے سے غور کیا گیا تھا جبکہ نوازشریف کے خلاف فیصلہ آنے پرعوامی رابطہ مہم شروع کرنے پراتفاق کیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں