The news is by your side.

Advertisement

باپ کے سامنے بیٹی کٹہرے میں مقدمہ بھگت رہی ہے، یہ روایت قائم کرنے والوں کوسودا مہنگا پڑے گا، نواز شریف

اسلام آباد : سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ایک باپ کے سامنے بیٹی کٹہرے میں مقدمہ بھگت رہی ہے، بیٹی کا دور دورتک اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں ، جنہوں نے یہ روایات قائم کی، یہ سودا بہت مہنگا پڑے گا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر مریم نواز کو کٹہرے پر بلائے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑی اوچھی قسم کی روایات قائم کی جارہی ہیں، ایک باپ کے سامنے بیٹی کٹہرے میں مقدمہ بھگت رہی ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ نوبت بھی آنی تھی بیٹیوں کو مقدمات میں گھسیٹا جارہا ہے، بیٹی کا دور دور تک اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں ، جنہوں نے یہ روایات قائم کی، یہ سودا بہت مہنگا پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ گلف اسٹیل سے متعلق مریم سے پوچھ رہے ہیں وہ ایک سال کی تھی، جس زمانے کا کیس ہے مریم کا سیاست سے دورتک تعلق نہیں تھا۔

نواز شریف نے کہا کہ بیٹی کو کٹہرے میں لاکھڑا کرنا قابل مذمت اور کیا ہوسکتاہے، اس بے رحم کھیل میں بیٹیوں تک کو ملوث کررہےہیں، ایسے راستے نہ چنیں جہاں سے کسی کی واپسی ممکن نہ ہو۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں تواس امتحان سے بھی گزرجاؤں گا، اس روش سے جو نتیجہ نکلے گا وہ سب کو بھگتنا ہوگا، جنہوں نے میرے خلاف مہم چلائی پوچھیں وہ کیا چاہتے ہیں، ملک بنانے کا مقصد کچھ اور تھا ہم کسی اور سمت جارہے ہیں۔


مزید پڑھیں : دھرنوں کے وقت تحمل اورصبر سے کام لیا‘ نوازشریف


انھوں نے مزید کہا کہ ہم نے دنیا میں اپنا مذاق بنایا ہوا ہے، دنیا میں جو صدیوں پہلے ہوا یہاں آج بھی ہورہا ہے، ملک کی خدمت کرنے والے سے یہ سلوک ہوتا ہے۔

اس سے قبل سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں ملک میں حقیقی جمہوریت ہو توسب کھڑے ہوں، اب کھڑے ہوں گے تو یہ ممکن ہو جائے گا۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ دھرنوں کے وقت تحمل اور صبر سے کام لیا، ماتحت کو فارغ کرسکتا تھا، ملک کی خاطرتحمل سے کام لیا، عدالت میں بتانا تھا توبتا دیا ہے، حقائق منظرعام پر آنے چاہییں، ہرچیزکا وقت ہوتاہے، سچ ریکارڈ پرلانے کے لیے کل بتایا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں