site
stats
پاکستان

نوازشریف کی نااہلی. کراچی اوردیگر ایئرپورٹس سے نوازشریف کی تصاویر ہٹادی گئیں

airports

اسلام آباد: پاناما کیس میں نااہلی کے بعد اسلام آباد، لاہور، کراچی کے ایئرپورٹس سے نوازشریف کی تصاویر ہٹادی گئیں جبکہ نواز شریف کا نام قومی اسمبلی کی ویب سائٹ سے بھی ہٹا دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ سے نااہل ہونے پرنواز شریف وزرات عظمی سے ہاتھ دھو بیٹھے، نااہلی کے بعد کراچی ایئرپورٹ اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ ، لاہور اور دیگر ایئرپورٹس سے نواز شریف کی تصاویر ہٹا دی گئیں۔

نواز شریف کی تصاویر ہٹانے کا عمل کل رات سے شروع کیا گیا تھا، کراچی کے ایئرپورٹ سے نوازشریف کی تصاویر پہلے ہی ہٹا دی گئی تھیں، ایئر پورٹ پر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور صدر ممنون حسین کی تصاویر موجود ہیں جبکہ تیسرے فریم کو نواز شریف کی تصویر نکال کر نئے وزیر اعظم کیلئے خالی چھوڑ دیا گیا ہے۔

ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق ایئر پورٹس پر قائداعظم کے سوا کسی کی تصویر نہیں لگائی جائے گی۔

قومی اسمبلی کی ویب سائٹ سے نوازشریف کا نام بطور رکنِ اسمبلی ہٹادیا

پاناما کیس میں نااہلی کے بعد قومی اسمبلی کی ویب سائٹ سے نوازشریف کا نام بطور رکنِ اسمبلی ہٹادیا گیا، قومی اسمبلی کے حلقوں کی ترتیب میں این اے 119 کے بعد ڈائریکٹ 121 کا تذکرہ ہے جبکہ نواز شریف کے حلقے این اے 120 کو ہٹا دیا گیا۔

دوسری جانب کئی سرکاری ویب سائٹس پر اب بھی نواز شریف کا نام بطور وزیرِ اعظم موجود ہے، وزارتَ اطلاعات،وزارتِ خارجہ امور ،پرائم منسٹر آفس اور کیبنٹ ڈویژن کی ویب سائٹس پر نواز شریف اب بھی وزیر اعظم ہے جبکہ کابینہ کی تحلیل ہونے کے بعد کابینہ ارکان کے نام تاحال قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر درج ہیں۔


مزید پڑھیں :  پاناما کیس: وزیراعظم نوازشریف نا اہل قرار


یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بنچ نے پاناما لیکس کے تاریخ ساز مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا اور کہا کہ نوازشریف صادق اورامین نہیں رہے جبکہ کیپٹن صفدر، اور اسحاق ڈارکو بھی نااہل قراردیا گیا ہے۔

عدالت نے نیب کو حکم دیا تھا کہ چھ ہفتوں کے اندروزیراعظم‘ کیپٹن صفدر‘ اسحاق ڈار اور مریم صفدرکے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے اور احتساب عدالت چھ ماہ میں فیصلہ کرے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top