اسلام آباد : ووٹ کوعزت نہ ملی تو ملک مسائل میں گھرا رہے گا، نوازشریف
The news is by your side.

Advertisement

اسلام آباد : ووٹ کوعزت نہ ملی تو ملک مسائل میں گھرا رہے گا، نوازشریف

اسلام آباد : سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ کی عزت بحال نہ ہوئی تو ملک خدانخواستہ اسی طرح مسائل میں گھرا رہے گا، 70سال سے جاری کھیل ہمارے لئے بدنصیبی کی بات ہے، تاریخ اب دھرانے نہیں دیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے زیر اہتمام ووٹ کو عزت دو کے عنوان سے منعقدہ سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نواز شریف نے کہا کہ عوام ووٹ کے ذریعے فیصلہ سناتی ہے اور مہذب قومیں اورادارے اس فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں ۔ووٹ کو عزت دو کا نعرہ عوام نے شروع کیا۔

انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کو یہ پسند نہیں آئے گا لیکن جمہوریت کے لئے ضروری ہے کہ عوامی فیصلے کو کھلے دل سے تسلیم کیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ جب عوام کے فیصلے پر اپنی رائے مسلط کی جائے تو اسے عوام کے ووٹ کی توہین کہا جاتا ہے، پاکستان کی پوری تاریخ اس سے بھری پڑی ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ میں سیاسی مفکرین سے اپیل کرتا ہوں کہ اس بیماری کا علاج تلاش کریں ، ہم کیوں 70 سال تک اس کا کھوج لگانے میں کیوں ناکام رہے، اگر ہم منافقت اور خود فریبی کا شکار رہے تو یہ آنے والی نسلوں سے بے وفائی ہوگی ۔

جنرل ایوب کے دور کے کچھ کردار آج بھی زندہ ہیں ۔افسوس ہر مارشل لاء کو نظریہ ضرورت دیاگیا اور عدالتوں نے اسے تسلیم کیا عدلیہ نے ہی آمروں کو کھلی چھٹی دی۔

انہوں نے کہا کہ 1951ء سے 1999 تک وزرائے اعظم کو مسلسل گھر بھیجا جاتا رہا اور اسمبلیاں توڑ دی جاتی رہیں،  2002سے 2017ء تک بھی وزرائے اعظم کو عہدوں پر مدت پوری نہ کرنے دی گئی۔1985میں غیر جماعتی انتخابات ہوئے اور تین سال بعد محمد خان جونیجو کو گھر بھیج دیا گیا۔

نواز شریف نے کہا کہ 2002 کے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی اسمبلی اور وزیراعظم کی کوئی حیثیت نہ تھی، یہ دنیا بھر میں عجوبہ کہلائے گا کہ ایک وزیراعظم کو اپنے بیٹے سے خیالی تنخواہ نہ لینے پر فارغ کر دیا گیا، بھٹو کو پھانسی بے نظیر کو قتل اور مجھے ہائی جیکر بنا دیا گیا اگر اس کھیل کو نہ روکا جا سکا تو ملک میں انتشار بڑھتا چلا جائے گا۔

انتظامیہ کو مفلوج کر کے رکھ دیا گیا ہے،عدلیہ میں اٹھارہ لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں، مایوس سیاستدان نے جوڈیشل مارشل لا لگانے کی بات کی تھی لیکن حالات کوئی مختلف نہیں، مسلم لیگ ن کو نشانے پر رکھ کر کیا منصفانہ انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکتا ہے۔

عدلیہ کے فیصلوں سے ن لیگ کی قیادت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، متنازعہ فیصلے کے نتیجے میں مجھے نکالا گیا۔ میرے ساتھ روا رکھے گئے اس سلوک کا ذمہ دار کون ہے؟ مقبول قیادت کا راستہ روکا جا رہا ہے، کٹھ پتلیاں زیادہ عزیز ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں ایک مخصوص گروہ کو کھڑا کیا جا رہا ہے، میری تا حیات نا اہلی کا فیصلہ خاص مائند سیٹ کا نتیجہ ہے، واجد ضیاء کے مطابق جے آئی ٹی میں 40 افراد تھے، میری نااہلی کو چھوڑیں مجھے آپ کی نا اہلی کی فکر ہے۔

ہر شہری کو شفاف ٹرائل کا حق دینے والا آئین کا آرٹیکل 10اے میرے لئے نہیں، ملک میں عملاً آئین کو معطل کردیا گیا، ایک شخص سے انتقام لینے کے لئے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا، انتخابات میں عوام کو فیصلہ کرنا ہو گا ۔

انہوں نے کہا کہ اتفاق کرتا ہوں وفاداری تبدیل کرنے والوں کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا، لودھراں کے ضمنی انتخابات میں گمنام شخص نے بڑے پہلوان کو چت کر دیا، لوگوں کے جذبے کو انتخابات میں استعمال کریں گے مسلم لیگ ن ایمپائر کی انگلی کی طرف نہیں دیکھتی، اب ہم70 سالہ تاریخ اب دھرانے نہیں دیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔  

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں