منتخب وزرائے اعظم کے ساتھ 70 برس سے ہونے والا تماشہ بند کیا جائے، نواز شریف
The news is by your side.

Advertisement

وزرائے اعظم کے ساتھ 70 برس سے ہونے والا تماشہ بند کیا جائے، نواز شریف

گوجرنوالہ: سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ 18 وزرائے اعظم کو ڈیڑھ ڈیڑھ سال ملے جب کہ تین ڈکٹیٹر ملک کے 30 سال کھا گئے، میں دوبارہ خود کو بحال کرانے نہیں بلکہ اصلی پاکستان کو بحال کرانے کے لیے جدوجہد کررہا ہوں، 70 سال سے منتخب وزرائے اعظم کے ساتھ ہونے والا تماشہ اب بند ہونا چاہیے

یہ بات انہوں نے گوجرانوالہ میں مسلم لیگ کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

نواز شریف نے کہا کہ نے کہا کہ مجھے جو پیار آج ملا ہے اس کی کوئی مثال نہیں،  نواز شریف یہ پیار زندگی بھر نہیں بھولے گا، میں خوش نصیب ہوں کہ لوگ مجھ سے اتنا پیار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں لاہور جارہا تھا کہ گوجرانوالہ نے مجھے روک لیا، ججوں کی بحالی کے لیے جب ہم نے مارچ کیا اور جیسے ہی ہم گوجرانوالہ پہنچے تھے تو اعلان ہوا تھا کہ ججز بحال ہوگئے، یہ میرے لیے مبارک شہر ہے۔

گوجرانوالہ میں تقریر کی مکمل ویڈیو

سابق وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کو وزیر اعظم آپ لوگوں نے بنایا تھا، آج نواز شریف کو انہوں نے نکال دیا، کاغذوں سے نکال دیا لیکن آپ کے دلوں سے نہیں نکال سکے، یہ بھی کوئی نکلنا ہے؟ کل یہ مجھے دوبارہ وزیر اعظم بنا دیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ میرا مقصد دوبارہ وزیراعظم بننا نہیں، میرا مقدمہ اس شہر کی عدالت میں یہ ہے کہ پاکستان کے مالک یہ 20 کروڑ عوام ہیں کہ نہیں؟ تو مجھے کس بات پر نکالا؟اس لیے کہ ہم روشنیاں واپس لارہے تھے؟ بجلی واپس اور سستے داموں واپس لارہے تھے؟ ملک ترقی کررہا تھا؟ اور بے روزگاری کا خاتمہ ہورہا تھا۔

نااہل وزیراعظم نے کہا کہ دنیا تسلیم کررہی تھی کہ پاکستان ترقی کررہا ہے، تجارت بڑھ رہی تھی، بے روزگاری ختم ہورہی تھی،پاکستان میں موٹر وے،ہائی وے سب بن رہے تھے، امن قائم ہورہا تھا اور دنیا مان رہی تھی کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان پرامن ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ترقی ان لوگوں کو برداشت نہیں ہوئی اور حملے شروع ہوگئے، کہا گیا کہ نواز شریف کامیاب ہوگیا تو اگلے سال پھر ن لیگ کی حکومت آجائے گی اور ہماری پاکستان میں کوئی سیاست نہیں رہے گی۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے میرے خلاف ساڑھے تین سال سے سازشیں ہورہی ہیں، ہم نے ان کا مقابلہ کیا اس کے باوجود ترقی کی رفتار اور تیز کی، ساتھ ساتھ سازشیں بھی تیز ہوئیں اور نواز شریف کو بڑی رسوائی کے ساتھ وزارت عظمیٰ سے نکالا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے کیوں نکالا گیا؟ کیا کرپشن  کی میں نے؟ کون سا روپیہ خورد برد کیا؟ یہ تو وہ بھی مانتے ہیں کہ نواز شریف نے کوئی کرپشن نہیں کی جنہوں نے مجھے نکالا؟ یہ پوچھنا میرا اور عوام دونوں کا حق بنتا ہے کہ کیوں نااہل کیا؟

انہوں نے کہا کہ جب سے پیدا ہوا ہوں پاکستان کا وفادار ہوں؟ کوئی کرپشن تو ثابت کرو، کون سا کمیشن لیا؟ کیا رشوت لی؟ کون سے حرام کی کمائی کی؟ ایٹمی طاقت بنانے والے وزیر اعظم سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے؟

انہوں نے عوام کو مخاطب کیا کہ کیا انصاف کرو گے میرے ساتھ؟ تیسری بار بھی حکومت کی مدت پوری کرنے نہیں دی گئی، میں پوچھتا ہوں کہ 20 کروڑ عوام کے ووٹوں کی کوئی عزت ہے کہ بھی نہیں؟ کیا آپ کو قبول ہے؟

نواز شریف نے کہا کہ 70 برس سے پاکستان کی یہی تاریخ رہی ہے کہ جو بھی وزیر اعظم آیا اسے ذلیل و رسوا کرکے نکالا گیا، کسی کو پھانسی دی گئی اور کسی کو ہتھکڑی لگادی گئی اور کسی کو جیلوں میں ڈالا گیا، کیا منتخب وزیر اعظم کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہے گا؟

انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان میں ایسا ہورہا ہے، دنیا کے کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا جہاں 70 برس سے ایسا تماشہ ہورہا ہو، یہ بدنصیبی پاکستان کے حصے میں آئی ہے، کتنا بدنصیب ہے پاکستان جو اپنی راہ متعین نہیں کرسکا، کبھی یہاں مارشل لا ہوتا ہے کبھی یہاں لولی لنگڑی جمہوریت، 18 وزیراعظم ڈیڑھ ڈیڑھ سال کے لیے آئے اور 3 ڈکٹیٹر 30 سال کھا گئے۔

انہوں نے کہا کہ جب کوئی بہانہ نہیں ملا تو یہ کہہ کر مجھے برطرف کردیا گیا کہ بیٹے کی کمپنی سے کوئی رقم لی، کیا یہ وجہ سمجھ میں آتی ہے؟ کیا یہ صحیح فیصلہ ہے؟ وہ اُس عدالت کا فیصلہ تھا اور آج یہ اس عدالت کا فیصلہ ہے، یہ اس شہر کا فیصلہ نہیں بلکہ پوری قوم کا فیصلہ ہے کہ انہوں نے فیصلہ تسلیم نہیں کیا۔

نواز شریف نے عوام سے کہا کہ وہ دل سے عہد کریں کہ وہ اپنے ووٹوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہونے دیں گے، یہاں کے لوگ جب عہد کرتے ہیں تو پورا کرتے ہیں، اس موقع پر نواز شریف نے لوگوں کے ہاتھ کھڑے کرائے کہ جنہوں نے فیصلہ تسلیم نہیں کیا وہ لوگ ہاتھ کھڑے کریں جواب میں مجمع نے ہاتھ کھڑے کردیے۔

انہوں نے کہا کہ ووٹوں کو روندتے کی ہزیمت برداشت کریں گے؟ اس طرح پاکستان دنیا میں باعزت قوم نہیں بن سکتا، پاکستان کو اس طرح 50 برس پیچھے کیا جارہا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ تمام شہروں میں ایک بات کی اور یہاں بھی کہہ رہا ہوں کہ میں اپنے آپ کو بحال کرانے کے لیے نہیں آیا، پاکستان کی عزت اور وقار بحال کرانے کے لیے آیا ہوں، کیا عوام میرا ساتھ دیں گے؟ عزت پاکستان کی بحال ہوگی تو آپ کی اور بچوں کی عزت اور وقار بھی بحال ہوگا اور لوگوں کو باعزت روزگار بھی ملے گا۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک آپ کو اس ملک میں باعزت روزگار نہ مل جائے، میں آپ کے لیے آپ کو جگانے آیا ہوں تاکہ پاکستان کے ساتھ ہمیشہ کے لیے مذاق بند ہوجائے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ عوام عہد کریں کہ پاکستان کی تقدیر بدلیں گے، یہ مذاق مزید برداشت نہیں کریں گے، میں عوام کی آنکھوں میں امید کی کرن دیکھ رہا ہوں، گبھرائیں نہیں ہم کہیں نہیں گئے ہم یہاں موجود ہیں، پاکستان چند مخصوص لوگوں کا نہیں بلکہ نواز شریف اور ان تمام کروڑوں لوگوں کا ملک ہے ہم مل کر اسے سجائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک میں اصلی پاکستان نہیں بنادیتا نہ میں چین سے بیٹھوں کا اور نہ آپ کو بیٹھنے دوں گا، میں اپنا وعدہ وفا کروں گا آپ اپنا وعدہ وفا کریں، میں آپ کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچاؤں گا۔

انہوں نے بچے کی ہلاکت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ میں اس کے گھر خود جاؤں گا اور اس کی جو مدد ہوسکی ضرور کروں گا، اللہ تعالیٰ بچے کو جنت میں جگہ اور گھر والوں کو صبر جمیل دے۔

قبل ازیں ان کی ریلی گجرات کراس کرتے ہوئے گوجرانوالہ پہنچی، جہاں ان کے خطاب کے لیے اسٹیج تیار کیا گیا، ساتھ ہی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

نواز شریف آج رات یہیں قیام کریں گے، ان کے قیام کے لیے وفاقی وزیرخرم دستگیر کے بہنوئی کی حویلی کو خوبصورتی سے سجایا گیا ہے، حویلی پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں۔

قبل ازیں انہوں نے گزشتہ رات جہلم میں قیام کیا اور آج دوبارہ لاہور کے لیے سفر کا آغاز کردیا۔ نواز شریف کا قافلہ گجرات پہنچا جہاں انہوں نے کارکنان سے مختصر خطاب بھی کیا۔ اس موقع پر کارکنان نواز شریف کے قافلے پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے رہے۔

گجرات پہنچنے پر سابق وزیر اعظم نوازشریف کو ہار بھی پہنائے گئے۔


گجرات میں خطاب

قبل ازیں گجرات میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف آپ کی عدالت میں حاضر ہے ہم نے عوام کی عدالت میں اپیل بھی دائر کردی ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ مجھے باہر نہیں نکالا جاتا تو آئندہ 2، 3 سال میں کوئی بے روزگار نہ رہتا، منتخب وزیر اعظم کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا، منتخب وزیر اعظم کو ان لوگوں نے کام نہیں کرنے دیا، آج گجرات میں چولہا بھی جلتا ہے، پنکھا بھی اور فیکٹری بھی چلتی ہے، آج ملک میں روشنیاں ہیں اور خوشحالی آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیصلے میں کہا گیا کہ نواز شریف نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، کیا کوئی باپ اپنے بیٹے سے تنخواہ لیتا ہے؟ مجھے بتایا جائے نواز شریف نے کون سی کرپشن کی ہے۔

مزید پڑھیں: جلد ایجنڈا دوں گا، نواز شریف

نواز شریف کا کہنا تھا کہ آپ کے ووٹ کو پاؤں تلے روندا گیا، پرچی پھاڑ کر ہاتھ میں تھما دیا گیا۔ آپ کا ووٹ بیکار گیا۔ کروڑوں لوگوں کے وزیر اعظم کو 5 لوگوں نے رسوا کر کے دفتر سے نکال دیا۔ میں یہ مذاق برداشت نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر عدالتی فیصلہ نہیں منظور تو بتاؤ کیا ہونا چاہیئے، کیا مجھے آرام سے گھر بیٹھ جانا چاہیئے یا اس ظلم کا مقابلہ کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کارکنان سے سوال کیا کہ کیا ظلم کے خلاف میرا ساتھ دو گے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میں توقع کرتا ہوں آپ میراساتھ دیں گے۔


خطاب سے قبل

گجرات پہنچنے سے قبل سابق وزیر اعظم نواز شریف نے فیکٹری ایریا مسجد میں نماز جمعہ ادا کی۔

نواز شریف کے قافلے کی ہیلی کاپٹرکے ذریعے فضائی نگرانی کی جارہی ہے۔ جی ٹی روڈ پر شدید ٹریفک کا دباؤ ہے اور دونوں اطراف گاڑیوں کی قطاریں لگ گئی ہے۔ نوازشریف کا قافلہ گجرات، وزیر آباد، گکھر منڈی سے گزرتا ہوا گوجرانوالہ پہنچے گا۔ روٹ پر سخت سیکیورٹی انتطامات کیے گئے ہیں۔

سابق وزیر اعظم آج گوجرانوالہ میں ہی قیام کریں گے اور کل صبح لاہور کے لیے روانہ ہوں گے۔ لاہور میں سیکیورٹی انتظامات بہتر بنانے کے لیے دوسرے شہروں سے بھی پولیس طلب کرلی گئی۔ اس کے علاوہ پنجاب کانسٹیبلری سے بھی اہلکاروں کو بھی لاہور بلا لیا گیا ہے۔ ملتان، ساہیوال اور وہاڑی سے بھی پولیس لاہور پہنچ گئے۔

آج صبح سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ نواز شریف گجرات میں نماز جمعہ کے بعد خطاب کریں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے حوالے سے جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو بطور وزیر اعظم نااہل قرار دے دیا تھا۔

نااہلی کے بعد سابق وزیر اعظم نے اسلام آباد سے اپنے آبائی علاقے لاہور کے لیے سیکیورٹی رسک ہونے کے باوجود ریلی کی صورت میں بذریعہ جی ٹی روڈ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں