site
stats
اہم ترین

دھرنے مسائل کا حل نہیں، نواز شریف،48 روز بعد وطن واپسی

لاہور: وزیراعظم نواز شریف وطن واپس پہنچ گئے، ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جمہوریت کے فروغ کے لیے کردار ادا کرے، دھرنے مسائل کا حل نہیں،ایک نئے جذبے کے ساتھ پاکستان آیا ہوں۔

یہ بات انہوں نے لندن سے  48 روز بعد وطن پہنچنے پر لاہور ایئرپورٹ پر مخصوص صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہی۔قبل ازیں وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا خصوصی طیارہ لاہور ایئرپورٹ کے اولڈ ٹرمینل پر اترا،وزیرداخلہ چوہدری نثار، احسن اقبال، سعد رفیق، گورنر اور وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت ملک دیگر اعلیٰ شخصیات نے وزیر اعظم کا استقبال کیا جس کے بعد وہ جاتی امرا روانہ ہوگئے۔

سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری کو ائیرپورٹ کے اطراف تعینات تھی۔اطلاعات ہیں کہ ایئرپورٹ سے جاتی امرا تک سیکیورٹی کے سخت انتظامات تھے جس کے لیے بائیس سو پولیس اہلکار تعینات کیے گئے، سی پی او لاہور نے تمام امور نگرانی کی۔
N-1
میاں محمد نوازشریف ائیر پورٹ سے بذریعہ ہیلی کاپٹر اپنی رہائش گاہ جاتی امرا روانہ ہوگئے اور وہاں پہنچنے پر انہوں نے اپنی والدہ اور اہل خانہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے لیے پرہیزی کھانے تیار کیے گئے ہیں۔


روانگی سے قبل صحافیوں سے گفت گو میں انہوں نے کہا کہ بیماری کے دوران بھی ذمہ داریاں سرانجام دیتا رہا ہوں، سب کو مل کر ملک کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا‘‘۔

اپنی صحت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’’اللہ کا شکر ہے کہ اب میں بالکل تندرست ہوں اور جلد قوم کو ملکی خدمت پر مامور نظر آؤں گا، قوم کی دعاؤں کی بدولت آج میں دوبارہ آپ کے درمیان موجود ہوں‘‘۔

ٹی اوآرز کے حوالے سے پوچھے گیے سوال پر میاں محمد نوازشریف نے جواب دیا کہ ’’کمیٹیوں کے درمیان ڈیڈ لاک جلد ختم ہوجائے گا، اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ جمہوریت کے فروغ کے لیے کردار ادا کرے اور ملک کو پیچھے نہ دھکیلے، دھرنا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ معاملات مذاکرات سے ہی حل کیے جاتے ہیں‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں تین سے چار روز میں میڈیا سے تفصیلی گفتگو کروں گا اور امید کا اظہار کیا کہ پوری قوم ملکی اپنا کردار ادا کرے گی۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم سے ملاقات کےلیے مخصوص صحافیوں کو ایئرپورٹ پر بلا یا گیا تھا،350 نشستوںوالے طیارے میں صرف 18افراد وطن پہنچے۔

 

یہ بھی پڑھیں :  وزیر اعظم کی واپسی ، پی آئی اے کو تیس کروڑ سے زائد کا نقصان

واضح رہے کہ وزیراعظم پاکستان لندن میں زیر علاج تھے، جہاں اُن کی خراب رپورٹس کے باعث طبی ماہرین نے اوپن ہارٹ سرجری کا مشورہ دیا تھا، کامیاب سرجری کے بعد ڈاکٹروں کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد وزیر اعظم نے پاکستان آنے کا ارادہ کیا تھا۔

وطن واپسی کے قبل میاں محمد نواز شریف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’عبدالستار ایدھی کے انتقال سے پیدا ہونے والے خلا کو کبھی پورا نہیں کیا جاسکتا تاہم طبیعت ناسازی کے باعث نماز جنازہ میں شرکت اور اہل خانہ سے ملاقات کی معذرت کی تھی‘‘۔

وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق نوازشریف دو روز آرام کے بعد پیر کے روز سے اپنی ملکی ذمہ داریاں سرانجام دیں گے۔

یاد رہے کہ لندن قیام کے دوران وزیر اعظم کے اپنے صاحبزادے کے گھر رہائش اختیار کی ہوئی تھی جبکہ عید الفطر کے موقع پر شریف خاندان نے وہی عید منائی تھی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے لندن سے اپنی اور اہل خانہ کے لیے عید کی خریداری بھی کی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top