The news is by your side.

Advertisement

ہماری روزانہ پیشیاں،عمران خان کوبری کردیاگیا،نوازشریف

اسلام آباد : سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ہماری روزانہ پیشیاں،عمران خان کوبری کردیاگیا، یہ کیسا نظام ہے جن کو سزا ملنی چاہیے وہ بری ہو جائیں، اس ملک میں جنہوں نےبری نہیں بھی ہوناہوتاوہ ہو جاتے ہیں،جنہوں نے کچھ نہیں کیا وہ پیشیاں بھگت رہے ہیں’۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں صحافی نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے سوال کیا کہ میاں صاحب آج عمران خان کی ضمانت منظور ہو گئی کیا کہیں گے؟

جس کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ میں نے کیا کہنا ہے اس پر؟’یہاں جنہوں نےبری نہیں بھی ہوناہوتا وہ ہو جاتے ہیں، جنہوں نےکچھ نہیں کیا وہ پیشیاں بھگت رہےہیں’۔

یہاں جنہوں نےبری نہیں بھی ہوناہوتا وہ ہو جاتے ہیں، جنہوں نےکچھ نہیں کیا وہ پیشیاں بھگت رہےہیں'۔

نواز شریف

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کہاں سے پابندی لگ رہی ہےآپ جانتے ہیں،  میڈیا کابھی گلا گھونٹ دیاجائے،یہ بہت ناانصافی ہے، کبھی کسی نے نہیں سوچاتھایہاں آئین کی جگہ کسی اور کی حکمرانی ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ اس طرح کی صورتحال جمہوریت میں کبھی نہیں دیکھی گئی، اس صورتحال کی وجہ سےملک کی ترقی متاثرہوئی ہے، سب دیکھ رہے ہیں سڑکیں ،موٹرویز اور ایئر  پورٹس بن رہے ہیں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے لوڈشیڈنگ کاسدباب کردیاہے،  آج پاکستان پھرتنہائی کا شکار ہونے جارہاہے، ہمیں ہوش کاناخن لینےچاہئیں،ایسےملک نہیں چلےگا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ جہاں لوڈشیڈنگ ہورہی وہاں ادائیگیوں کامسئلہ ہے،  آج لوڈشیڈنگ کے معاملے میں وزیراعظم سے ملاقات ہے، پاکستان مسلم لیگ ن نےہمیشہ اخلاقیات کواہمیت دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ثبوت ہیں نہ دستاویز، کسی نے کرپشن کاالزام نہیں لگایا، 61پیشیاں بھگت چکے،کسی نے دستاویزی یا زبانی ثبوت نہیں دیا، ہم پرکیس چل رہا ہے، نہ جانے کیا فیصلہ ہونے والا ہے۔

عمران خان کی بریت کے حوالے سے نواز شریف نے کہا کہ ہماری روزانہ پیشیاں،عمران خان کوبری کردیاگیا، جتنےگواہ پیش ہوئےکسی نے کرپشن ،خورد برد کا الزام نہیں لگایا، قابل افسر پر تشدد کرنے والے کو بری کردیا گیا، پولیس اور اداروں کو کیا پیغام جارہا ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عمران خان کی توپیشی بھی نہیں ہوئی، مجھے تواہلیہ کی عیادت کیلئےبھی نہیں جانےدیاجاتا۔ باتیں کرنے والے شفاف الیکشن نہیں کراسکتے۔

عمران خان کوعوام کے انگوٹھے کے نشان نہیں ملیں گے

نواز شریف

انھوں نے مزید کہا کہ باتیں کرنے والے شفاف الیکشن نہیں کراسکتے،عمران خان بھی کہہ رہے ہیں الیکشن میں تاخیرہوسکتی ہے، عمران خان کوعوام کا ساتھ نہیں ملا،امپائر کی انگلی پر انحصار کیا، عمران خان کوعوام کے انگوٹھے کے نشان نہیں ملیں گے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ اہم موڑ آ گیا ہے، آپ پاکستان کی قسمت بدل سکتے ہیں، اب آواز دبانے کا وقت ختم ہو گیا، عوام کےمحافظوں کے ساتھ گھناؤنا سلوک کیاگیا، ایسےشخص کو بغیر ٹرائل بری کرنے پر کیا پیغام جائے گا، یہ کیسا نظام ہے جن کو سزا ملنی چاہیے وہ بریہو جائیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ دھرنے کے حقائق عوام کے سامنے نہ ہی آئیں تو بہتر ہے، حقائق عوام کے سامنے آنے سے پہلے ہی حالات بہتر ہونے چاہئیں، الیکشن تاخیر سے ہونے کی باتیں لاہور جلسے کی ناکامی ہے۔

نااہل وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ہمیشہ الزامات کی سیاست کی ہے، لاہور جلسے کی ناکامی کے بعد ہم پرالزام لگائےجا رہے ہیں، ہم وہ نہیں جنہیں امپائر کی انگلی کا انتظار ہو۔

عمران خان کی بریت کااوپرسےحکم آیا ہوگا، مریم نواز


دوسری جانب سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے بھی میڈیا سے گفتگو میں عمران خان کی بریت پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی بریت کااوپرسےحکم آیا ہوگا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں