The news is by your side.

Advertisement

بہترہوگازرداری صاحب ذاتی الزام تراشیوں کا دفتر نہ کھولیں ،نوازشریف

لاہور : سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ بہترہوگازرداری صاحب ذاتی الزام تراشیوں کا دفتر نہ کھولیں، میں نے اینٹ سے اینٹ بجانے والے بیان پر ناپسندیدگی کا پیغام بھیجا اور طے شدہ ملاقات منسوخ کی۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے آصف زرداری کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری کا بیان قیادت کرنیوالے فرد کے شایان شان نہیں ، آج بڑےاصولی اورنظریاتی مشن کی جدوجہد میں مصروف ہوں، میری جدوجہد کا مقصدعوام کےحق حکمرانی کی بحالی ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں اس طرح کی سیاسی بیان بازی کا حصہ نہیں بننا چاہتا، زرداری وژن کسی اور پلڑے میں ڈالنا چاہتے ہیں تو شوق پورا کرلیں، زرداری صاحب کیا اتنے بھولے اور معصوم تھے ورغلانے میں آگئے؟

میں نے اینٹ سے اینٹ بجانے والے بیان پر طے شدہ ملاقات منسوخ کی

نواز شریف

انھوں نے کہا کہ زرداری کیچڑاچھالنےاورتاریخ کو مسخ کرنےسے گریز کریں، زرداری صاحب کے اینٹ والے بیان پر ناپسندیدگی کا پیغام بھیجا تھا، اگلے دن زرداری صاحب سے طے شدہ ملاقات منسوخ کردی تھی۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ زرداری صاحب نے کیوں نہیں بتایا انہیں یہ پٹی میں نے پڑھائی؟ وعدہ خلافی کس نےکی؟دھوکا کس نے دیا؟ حکومت کا حصہ بننے کیلئے مشرف کے مواخذے کی شرط رکھی تھی، ججزکی بحالی اور17ویں ترمیم کے خاتمےکی شرط رکھی تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ مشرف سے اختلاف اپنی جگہ ادارے کیخلاف بیان نہیں دیناچاہیے، آج 3سال بعد زرداری صاحب کو سچ بولنے کا خیال کہاں سے آگیا؟ کس نے تحریری معاہدوں سے انحراف کیا کہ یہ قرآن وحدیث نہیں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ زرداری کو یاد ہونا چاہیے وہ سیاستدان کیساتھ رائیونڈ آئے تھے، زرداری صاحب نے یہ بتایا وہ میرے اشاروں پر چل رہے تھے، قوم کو آج یہ بھی بتادیں وہ کس کی کٹھ پتلی ہیں۔

نا اہل وزیر اعظم نے مشورہ دیتے ہوئے کہا زرداری کل میری زبان بول رہے تھے تو آج کس کی زبان ہے، بہترہوگا زرداری صاحب ذاتی الزام تراشیوں کا دفتر نہ کھولیں اور اپنی توجہ انتخابات پر رکھیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ زرداری صاحب کی جماعت دیہی سندھ تک سکڑچکی ہے، وہ نوشتہ دیوارپڑھنے کی کوشش کریں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں