عدالتی فیصلے سے ایوب، مشرف ادوار کا کا لاقانون زندہ ہوگیا: ترجمان مسلم لیگ ن Nawaz Sharif
The news is by your side.

Advertisement

عدالتی فیصلے سے ایوب، مشرف ادوار کا کا لاقانون زندہ ہوگیا: ترجمان مسلم لیگ ن

لاہور: مسلم لیگ ن کی جانب سے انتخابی اصلاحات کیس میں فیصلے کو انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دے دیا گیا.

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے انتخابی اصلاحات کیس میں‌ فیصلے پر مسلم لیگ ن کے رہنمائوں کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ اور میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا، جس کے بعد اب مسلم لیگ ن کے ترجمان کا موقف بھی سامنے آگیا ہے۔

ترجمان مسلم لیگ ن کے مطابق عدالتی فیصلے سے جمہوری اقدار کو شدید نقصان پہنچے گا، اس سے ایوب، مشرف ادوار کا کا لاقانون زندہ ہوگیا.

ترجمان مسلم لیگ ن کے مطابق عدالتی فیصلے کی جمہوری تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، 1973 کے آئین کی خالق پارلیمنٹ کے قانون کو ختم کردیا گیا اور سیاسی جماعت سے سربراہ چننے کا حق چھین لیا گیا.

ترجمان مسلم لیگ نے مزید کہا کہ نوازشریف کسی فرد نہیں، بلکہ نظریے کا نام ہے، عدالتی فیصلہ جمہوری اقدار کو نقصان پہنچائے گا. سیاسی جماعت سے سربراہ کے انتخاب کا حق چھیننا مناسب نہیں.

یاد رہے کہ آج سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات 2017 کا فیصلہ سنایا، جس کی رو سے نوازشریف ن لیگ کی صدارت کے لئے نااہل ہوگئے اور ان کے بحیثیت پارٹی صدر تمام فیصلے بھی کالعدم قرار ٹھہرے.

انتخابی اصلاحات کیس: نوازشریف پارٹی صدارت کے لئے نااہل قرار

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 2017 کی شق 203 میں ترمیم کالعدم قرار دے دی ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نااہل شخص پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا، اٹھائیس جولائی کے بعد نوازشریف کے کیے گئے تمام فیصلے کالعدم تصور کیے جائیں.

عدالتی فیصلے کے بعد ن لیگ میں‌ بڑا بحران پیدا ہوگیا ہے، جس سے نبردآزما ہونے کے لیے پارٹی کی اعلیٰ قیادت سر جوڑ کر بیٹھ گئی ہے.


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں