The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے اصل مالک نکلے، ضمنی ریفرنس میں اہم انکشافات

اسلام آباد:ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ضمنی ریفرنس میں اہم انکشاف ہوا کہ نواز شریف ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کے اصل مالک ہے اور مریم ،حسین نےجےآئی ٹی کےسامنے جعلی دستاویزات پیش کیں۔

تفصیلات کے مطابق نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ضمنی ریفرنس میں اہم انکشافات سامنے آئے، جن کے مطابق نواز شریف ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کے اصل مالک ہے جبکہ نواز شریف نے اپنے بچوں کے نام پر جائیداد خریدی اور مریم ،حسین نے جے آئی ٹی کے سامنے جعلی دستاویزات پیش کیں۔

نیب کی جانب سے دائر ضمنی ریفرنس 5 صفحات پر مشتمل ہے۔

ضمنی ریفرنس کے مطابق جے آئی ٹی میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹ شریف خاندان کی ملکیت کا انکشاف ہوا، جےآئی ٹی میں ملزمان فلیٹس کی خریداری کی ٹریل ثابت کرنے میں ناکام رہے، ملزمان کو2بارسمن جاری کئے گئے تاہم نیب تفتیش میں شامل نہیں ہوئے، مریم،حسن ،حسین کی طرف سےطارق شفیع کے2بیان حلفی جمع کرائےگئے جبکہ مریم ،حسین کی طرف سے پیش ٹرسٹ ڈیڈ،ورک شیٹ جعلی ثابت ہوئیں۔

دائر ضمنی ریفرنس میں مؤقف ہے کہ ملزمان کرپشن میں ملوث پائے گئے ہیں،نیب کی سیکشن10کےتحت یہ قابل سزا جرم ہے، طارق شفیع،موسیٰ غنی،سعیداحمدکےجوابات موصول نہیں ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ موسیٰ غنی، سعید احمد، جاوید کیانی، طارق شفیع و دیگر کیخلاف تحقیقات جاری ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز نیب نے احتساب عدالت میں شریف خاندان کیخلاف ضمنی ریفرنس دائر کیا تھا ، ضمنی ریفرنس میں سات نئےگواہان شامل تھے، جن میں دو کاتعلق برطانیہ سے ہے۔

نیب کی جانب سے مزید شواہد ضمنی ریفرنس کاحصہ بنائے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ 19 اکتوبر 2017 کو احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نااہل نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر فرد جرم عائد کردی تھی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب پاناما پیپرز کیس کے فیصلے کی روشنی میں نیب کی جانب سے نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کے خلاف 3 ریفرنسز دائر کیے گئے تھے جبکہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا نام ایون فیلڈ ایونیو میں موجود فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں شامل ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں