The news is by your side.

Advertisement

عدالتی فیصلے کے بعد نوازشریف کی کوٹ لکھپت جیل سے ضمانت پر رہائی

لاہور: مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد اور سابق وزیر اعظم نوازشریف کو روبکار موصول ہونے کے بعد کوٹ لکھپت جیل سے رہا کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نوازشریف کے وکیل نے ضمانتی مچلکے جمع کرائے جس کے بعد سابق وزیراعظم کی رہائی کا روبکار جیل سپرٹنڈنٹ کو ارسال کیا گیا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری روبکار لے کر جیل پہنچے، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’ضمانت کے لیے 50 ، 50 لاکھ کے 2 مچلکے جمع کراچکے، روبکار لانا سرکاری اہلکاروں کا کام ہے وہ خود ہی لے کر آئیں گے‘۔

کوٹ لکھپت جیل کے سپرٹنڈنٹ کاغذی کارروائی مکمل ہونے کے بعد نوازشریف کو جیل سے رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔سابق وزیر اعظم کے محافظوں کا دستہ اور  لیگی کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف بھائی کی رہائی سے قبل اپنی رہائش گاہ روانہ ہوگئے تھے۔ نوازشریف کو وی آئی سیکیورٹی میں رہائش گاہ منتقل کیا جائے گا جبکہ کارکنان کی خواہش تھی کہ جلوس کی صورت میں انہیں جاتی امرا لے جایا جائے۔

سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ

قبل ازیں سپریم کورٹ کی جانب  سے چار صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا گیا جسے  چیف جسٹس آ صف سعیدکھوسہ نے تحریر کیا۔

تحریری فیصلے کے مطابق سابق وزیر اعظم کو چھ ہفتے ضمانت پر رہا کیا گیا، اس دوران نواز شریف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چھ ہفتے کی مقررہ مدت ختم ہونے کے بعدضمانت ازخود منسوخ ہوجائے گی اور اگر اُس کے بعد نوازشریف نے خود کو قانون کے حوالے نہیں کیا تو گرفتار کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے نوازشریف کے بیرون ملک جانے پر پابندی بھی عائد کی جبکہ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضمانت میں توسیع کی درخواست کے ساتھ سرنڈر کرنا قابل قبول نہیں ہوگا۔ تحریری فیصلہ کے مطابق نواز شریف کی ضمانت کے لیے 4 شرائط عائد کی گئیں، جس کے تحت وہ  دورانِ ضمانت ملک کے کسی بھی اسپتال سے اپنا علاج کراسکتے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر ضمانت کے دوران اپیل خارج ہوئی تو گرفتاری کا فیصلہ عدالت کرے گی، علاج کی غرض سے مختصر مدت کے لیے ضمانت کی استدعا مناسب ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں