The news is by your side.

Advertisement

کس کی بات کررہے ہیں؟ نوازشریف چوہدری نثار کو بھول گئے

لندن: سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نوازشریف نے اپنے دیرینہ ساتھی چوہدری نثار  کو پہچاننے سے ہی انکار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم اپنی اہلیہ کی عیادت کے بعد واپس جارہے تھے کہ  اسی دوران اُن سے صحافی نے سوال کیا کہ کوئی دیرینہ ساتھی آپ کا ساتھ چھوڑ گیا اس بارے میں کیا کہیں گے؟ نوازشریف نے ایک لمحے تاخیر کے بغیر صحافی سے پوچھا کس کی بات کررہے ہیں؟ یہ بات کہہ کر وہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل چوہدری نثار علی خان نے اپنے حلقے میں انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے اعلان کیا تھاکہ اب اُن کا نوازشریف سے سیاسی رشتہ ختم ہونے جارہا ہے، انہوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات لڑنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

مزید پڑھیں: نوازشریف ہم سے زیادہ اہل اور سیاسی نہیں، نہ ہی میں ان کا مقروض ہوں، چوہدری نثار

چوہدری نثار کا اپنی دھواں دھار تقریر میں کہنا تھا کہ ’میں نوازشریف اور اُن کی بیٹی کا کردار قوم کے سامنے لانا چاہتا ہوں مگر یہ وقت نہیں کیونکہ بیگم کلثوم کی طبیعت ناسازی کیوجہ سے شریف خاندان بہت زیادہ پریشان ہے’۔

اُن کا کہنا تھا کہ 34سال میں ن لیگ کی ایک ایک اینٹ میں نے رکھی، نوازشریف ہم سے زیادہ اہل اور سیاسی نہیں تھے پھر بھی انہیں پارٹی کی قیادت دی گئی، جلسہ دیکھ کر مخالفین پر خوف طاری ہوگیا ہوگا۔

مسلم لیگ ن کے منحرف ہونے والے مرکزی رہنما کا عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مخالفین کو علم ہوناچاہئے کہ چوہدری نثار اکیلا نہیں جس کےساتھ اللہ ہو وہ کبھی تنہا نہیں ہوسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: ن لیگ نے چوہدری نثار کو ٹکٹ جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، رانا ثناءاللہ

ان کا مزید کہنا تھا کہ جو کچھ میں نے برداشت کیا وہ جلد قوم کے سامنے لاؤں گا اور  عوام کو یہ بھی بتاؤں گا کہ مریم نواز سے کس بنیاد کی وجہ سے اختلاف گیا، جس دن یہ ساری باتیں بیان کرنا شروع کیں تو ان کی اصلیت قوم کو سمجھ آجائے گی۔

دوسری جانب چوہدری نثار علی خان کی کھل کر بغاوت کے بعد مسلم لیگ ن نے انہیں پارٹی ٹکٹ جاری نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا، اس ضمن میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ سابق وزیرداخلہ کے مقابلے میں ہمارا امیدوار بھی میدان میں اترے گا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں