site
stats
اہم ترین

پاکستان میں انصاف نہیں بلکہ انصاف کا خون ہو رہا ہے، نواز شریف

لندن : سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ اپنی اہلیہ کے علاج کے سبب یہاں مقیم ہوں اور اگلے ماہ پاکستان جانے کا ارادہ ہے تاکہ مقدمات کا سامنا کرسکوں.

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ، سابق وزیراعظم نے کہا کہ اہلیہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں اور ان کی کیمو تھراپی جاری ہے جس کے لیے میں یہاں موجود ہوں.

انہوں نے کہا کہ عدالتوں کا پہلے بھی سامنا کیا ہے اور اب بھی کریں گے لیکن میری غیر حاضری کی وجہ بڑی جینوئن ہے اور سب کے سامنے ہے کہ میں اپنی اہلیہ کےعلاج کے لیے یہاں مقیم ہوں.

سابق وزیراعظم نے سوال کیا کہ کیا احتساب اس طرح ہوتا ہے؟ کیا آپ لوگوں کو احتساب ہوتا نظر آتا ہے ؟ یہ انصاف کا خون ہورہا ہے اور حقائق کو پیروں تلے روندا جارہا ہے.

 اسی سے متعلق : ایون فیلڈریفرنس کے بعد عزیزیہ اسٹیل ریفرنس میں بھی نوازشریف فردجرم عائد

سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ جے آئی ٹی پر ہم نے جو بھی اعتراضات اٹھائے اسے نظر انداز کردیا گیا اور ہمارے مخالفین کو چن چن کر جے آئی ٹی میں شامل کیا گیا تاکہ انتقامی کارروائی کی جا سکے.

نواز شریف نے کہا کہ جے آئی ٹی نے ایڑی چوٹی کازور لگایا لیکن اقامہ کے سوا کچھ نہیں نکلا جب کہ بے شمار پاکستانیوں کے پاس اقامہ ہے، کیا یہ انصاف ہو رہا ہے یا انصاف کا خون ہو رہا ہے

احتساب عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کرنے پر سوال کے جواب میں کہا کہ غیر موجودگی میں فرد جرم عائد کرنے کی کوئی نظیر نہیں ملتی لیکن آج چشم تصور نے یہ نظارہ بھی دیکھ لیا

انہوں نے کہا کہ میں عدالت اور نیب ریفرنس کے سامنے بھی پیش ہوچکا ہوں کیوں کہ عدالتوں کا سامنا کرنے سے کبھی نہیں گھبرایا تاہم کلثوم نواز کی کیموتھراپی کے سلسلے میں مصروف ہوں اس لیے اب پاکستان چودہ اکتوبر کے بعد جاؤں گا.

خیال رہے کہ آج احتساب عدالت کےجج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف، مریم نواز، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر فرد جرم عائد کی اور ملزمان کو فرد جرم کے نکات پڑھ کر سنائے، عدالت میں ملزمان نے صحت جرم ست انکار کردیا جبکہ نا اہل نوازشریف پرفرد جرم ان کے نمائندے ظافرخان کے ذریعے عائد کی گئی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top