The news is by your side.

Advertisement

‘نوازشریف عدالت میں پیش ہوں یا گرفتاری دیں’

اسلام آباد: مشیر احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نوازشریف پیش نہیں ہوتےتواپیل بھی نہیں کرسکتے، نوازشریف کوعدالت میں پیش ہونا ہو گا یا گرفتاری دینا ہوگی۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ‘پاورپلے’ میں گفتگو کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ نوازشریف کےوکلاکی جانب سےپیش نہ ہونےکی درخواست دی گئی، نوازشریف کی جانب سےدی گئی درخواست کی قانونی حیثیت نہیں تھی نوازشریف سزایافتہ مجرم ہیں انہیں عدالت میں پیش ہوناچاہیےتھا عدالت نےاسی لیےنوازشریف کودوبارہ پیشی کاموقع دیاہے۔

مشیراحتساب نے کہا کہ نوازشریف کوطبی بنیادوں پرضمانت دی گئی تھی عدالت نےکہاتھاضمانت میں توسیع کیلئےحکومت سےاجازت لیناہوگی، نوازشریف کوایک ٹیکانہیں لگایاکیونکہ میڈیکل رپورٹ میں لکھاہےان کا اب تک علاج شروع ہی نہیں ہواہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آبادہائیکورٹ کی حدودتھی ای سی ایل سےنام لاہورہائیکورٹ سےنکلوایا، ای سی ایل سےنام نکالنےکانوازشریف کی ضمانت کیس سےتعلق نہیں بنتا، ای سی ایل سےنام نکلوانےسےمتعلق ہم نےشارٹی بانڈمانگاتھا اور ن لیگ لاہورہائیکورٹ گئی جہاں شہبازشریف نےگارنٹی دی تھی، شہبازشریف کی جانب سےشخصی ضمانت لاہورہائیکورٹ کودی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نےوفاق سےدرخواست کی نوازشریف کوواپس لایاجائے، وفاق نےبرطانوی حکومت کوباقاعدہ تحریری طورپرآگاہ کیاہے، حکومت پاکستان کی جانب سےقانون عمل فالوکیاجارہاہے، نوازشریف کوواپس لانےسےمتعلق برطانیہ کوتحریری آگاہ کیاگیاہے، نوازشریف کیخلاف لاہورہائیکورٹ میں توہین عدالت کاکیس بن سکتاہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں