The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف کا طیارہ لندن کے لیے منگل کو اڑان بھرے گا

نواز شریف کو ایمبولینس کے ذریعے ائیر پورٹ حج لاؤنج لایا جائے گا، سیکورٹی انتظامات شروع

لاہور: سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا ہے کہ نواز شریف 48 گھنٹوں میں علاج کے لیے لندن روانہ ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک علاج کی اجازت ملنے پر نواز شریف کی لندن اڑان بھرنے کی تیاری شروع ہو چکی ہے، ڈاکٹر عدنان نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے ایک پیغام میں نواز شریف کی بیرون ملک روانگی سے متعلق کہا ہے کہ جیسے ہی ان کی طبیعت بہتر ہوتی ہے، وہ لندن کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔

ذاتی معالج نے کہا کہ نواز شریف کا برطانیہ کے لیے سفر اڑتالیس گھنٹوں میں شیڈول ہے، جب وہ طبی طور پر سفر کے قابل ہوں گے تو روانہ ہو جائیں گے، فضائی سفر کے لیے ان کی طبیعت کی بہتری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

اپنے ٹویٹ ڈاکٹر عدنان خان نے کہا کہ نواز شریف مکمل طبی سہولتوں سے آراستہ ایئر ایمبولینس میں سفر کریں گے، جو کہ جلد ہی پہنچنے والی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور ہائیکورٹ نے نوازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی

ترجمان ن لیگ مریم اورنگ زیب نے بھی ٹویٹ کے ذریعے تصدیق کر دی ہے کہ نواز شریف منگل کو بیرون ملک علاج کے لیے روانہ  ہوں گے، سابق وزیر اعظم کو لے جانے کے لیے ائیر ایمبولینس منگل کی صبح پہنچے گی۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹرز نے نواز شریف کا آج صبح پھر تفصیلی معائنہ کیا، نواز شریف کو سفر کے قابل بنانے کے لیے ڈاکٹرز نے صلاح مشورہ کیا، پلیٹ لیٹس کی مقدار کے لیے اسٹیرائیڈز کی ہائی ڈوز دینے کا عمل جاری ہے۔

ادھر ذرایع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد کی لندن روانگی کے لیے قطر ائیر لائن کی ایمولینس کا کل لاہور پہنچنے کا امکان ہے، نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکلنے کے فوری بعد ائیر ایمبولینس لاہور کے لیے روانہ ہوگی۔

ذرایع نے بتایا کہ نواز شریف کو ایمبولینس کے ذریعے ائیر پورٹ حج لاؤنج لایا جائے گا، اے ایس ایف نے حج لاؤنج میں سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، ائیر ایمبولینس کو حج لاؤنج کے ساتھ پارک کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے لاہور ائیر پورٹ مینجر سے حج ٹرمینل پر تعینات عملے کا شیڈول بھی مانگ لیا ہے، جب کہ امیگریشن عملہ حج لاؤنج ہی پر نواز شریف اور ان کے ہمراہ جانے والوں کی امیگریشن کرے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں