پاکپتن اراضی کیس، سپریم کورٹ نے جےآئی ٹی تشکیل دےدی
The news is by your side.

Advertisement

پاکپتن اوقاف اراضی الاٹمنٹ کیس ، سپریم کورٹ نے جےآئی ٹی تشکیل دے دی

اسلام آباد : نوازشریف کوایک اورجےآئی ٹی کا سامنا، سپریم کورٹ نے پاکپتن اراضی کیس میں تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دیتے ہوئے 27دسمبر تک  قواعدو ضوابط طےکرنےکی ہدایت کردی،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے نوازشریف کہتے ہیں اراضی ڈی نوٹیفائی نہیں کی، جانتےہیں یہ بات غلط ثابت ہوئی تونتائج کیاہوں گے؟

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں محکمہ اوقاف پاکپتن اراضی الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی ، سماعت میں دلائل کے بعد عدالت نے ڈی جی نیکٹاخالق دادکی سربراہی میں مشترکہ جےآئی ٹی بنانےکاحکم دے دیا اور کہا کہ آئی ایس آئی اور آئی بی کاایک ایک نمائندہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں شامل ہوگا۔

عدالت نے ہدایت کی جے آئی ٹی کے قواعد و ضوابط 27 دسمبر تک طے کیے جائیں اور ٹی او آرز 27 دسمبر تک جمع کراتے ہوئے جے آئی ٹی اراکین سپریم کورٹ میں پیش ہوں۔

نوازشریف کہتےہیں اراضی ڈی نوٹیفائی نہیں کی،یہ بات غلط ثابت ہوگئی تونتائج کیاہوں گے؟

چیف جسٹس

چیف جسٹس نےکہادستاویزسےثابت ہےنوازشریف نےبطوروزیراعلیٰ جائیدادنجی ملکیت میں دی،اب نوازشریف کہتے ہیں ان کی یادداشت ہی چلی گئی ہے۔

چیف جسٹس کااستفسار کس سےتفتیش کرائیں؟ جس پر وکیل نوازشریف بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کسی سےبھی تفتیش کرا لی جائے ، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا  کہ نواز شریف کہتےہیں اراضی ڈی نوٹیفائی نہیں کی،یہ بات غلط ثابت ہوگئی تونتائج کیاہوں گے؟  گزشتہ سماعت پرنوازشریف نےجےآئی ٹی کی تشکیل پراعتراض کرتےہوئے کہاتھاکہ جےآئی ٹی سےمتعلق ان کاتجربہ اچھا نہیں ہے۔

مزید پڑھیں : جےآئی ٹی کی بجائے کچھ اوربنا دیں، جے آئی ٹی کا تذکرہ اچھا نہیں لگتا ، نواز شریف

سپریم کورٹ نے محکمہ اوقاف پاکپتن میں زمین کی الاٹمنٹ کے کیس میں نواز شریف کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے، سابق وزیراعظم خود وضاحت کریں کہ انہوں نے نوٹیفکیشن واپس کیوں لیا؟

بعد ازاں سابق وزیراعظم نوازشریف سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور اپنے بیان میں کہا میرے ریکارڈ کے مطابق میں نے کوئی ایسا فیصلہ نہیں کیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا تھا کہ یہ پراپرٹی اوقاف کی تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معاملہ مزید تحقیق کا ہے توکیوں نہ جے آئی ٹی بنا دیں، تو نوازشریف کا کہنا تھا کہ جےآئی ٹی کی بجائے کچھ اوربنا دیں،  جے آئی ٹی کا تذکرہ اچھا نہیں لگتا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ آپ کومنصف بنا دیں انصاف کرنا صرف عدالتوں کا کام نہیں، آپ خود انصاف کردیں کہ کیا ہونا چاہیے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں