The news is by your side.

Advertisement

نوازالدین صدیقی پر بیوی کی جاسوسی کا الزام

ممبئی: بالی ووڈ انڈسٹری کے با صلاحیت اداکار نوازالدین صدیقی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کی جاسوسی کے لیے نجی مخبر بھرتی کیے ہوئے ہیں جو ہر وقت اُن کی بیوی پر نظر رکھتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شوبز انڈسٹری میں اپنی اداکاری سے مختصر عرصے میں اونچا مقام حاصل کرنے والے نوازالدین صدیقی پر شک کی عادت کی وجہ سے الزام ہے کہ انہوں نے شک کی بنیاد پر بیوی کی گرد جاسوسی کے جال بچھا رکھا ہے۔

ہفتے کے روز اداکار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’گزشتہ شام میں بیٹی کے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کی مدد کے سلسلے میں اسکول پہنچا اور نمائش میں شرکت کی تو وہاں موجود میڈیا نمائندگان نے سوالات کر کے الزامات لگانے کی کوشش کی جو میرے لیے حیران کُن بات تھی‘۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اداکار  کے خلاف تھانے پولیس میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں اُن پر الزام تھا کہ انہوں نے بیوی کی جاسوسی کے لیے نجی مخبر بھرتی کیے ہوئے ہیں جبکہ انہوں نے اہلیہ کے موبائل کالز کا ڈیٹا بھی وکیل کی مدد سے حاصل کیا۔

مزید پڑھیں: نوازالدین صدیقی کی نئی فلم ’مون سون شوٹ آؤٹ‘ کا ٹریلر جاری

پولیس نے شک کی بنیاد پر 11 افراد کو گرفتار کیا جن پر الزام تھا کہ وہ نوازالدین صدیقی کی اہلیہ پر نظر رکھتے ہیں اور اُن کی مخبری کررہے ہیں، پولیس حکام کے مطابق بالی ووڈ اداکار کو جمعے کے روز تفتیش کے لیے تھانے طلب کیا گیا تھا تاہم وہ نہیں آئے اور نہ ہی وہ تحقیقات میں کسی قسم کا تعاون کررہے ہیں۔

تفتیشی افسر کے مطابق مقدمے میں اداکار کی جانب سے اگر تعاون نہیں کیا گیا تو قانون کے تحت انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے، پولیس کے مطابق نواز الدین کی اہلیہ کا کال ڈیٹا جس شخص نے بھی کمپنی سے حاصل کیا اُس تک جلد پہنچ جائیں گے اور پھر مذکورہ شخص کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید پڑھیں: نوازالدین نے بچپن کی ضروریات کیسے پوری کیں؟

بالی ووڈ انڈسٹری سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نوازالدین صدیقی نے شک کی بنیاد پر اہلیہ پر نظر رکھنی شروع کی تاہم مصروفیات کے باعث انہوں نے باقاعدہ نجی مخبر بھرتی کیے۔ دوسری جانب نواز الدین صدیقی کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنے اوپر عائد کیے جانے والے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں،مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں