The news is by your side.

Advertisement

میں قید نہ ہوتا تو مولانا کے ساتھ ٹرک پرکھڑا ہوتا، نواز شریف کا چھوٹے بھائی کو خط

لاہور : سابق وزیراعظم نواز شریف نے شہباز شریف کے نام خط میں کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا مؤقف درست ہےحمایت کرنی چاہئے، خاموش بیٹھنے سے حالات بہترنہیں ہوں گے ، میں قید نہ ہوتا تو مولانا کے ساتھ ٹرک پرکھڑا ہوتا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کے کوٹ لکھپت جیل سے شہباز شریف کے نام خط کے مندرجات سامنے آ گئے ، خط میں نواز شریف نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا مؤقف درست ہے حمایت کرنی چاہئے، خاموش بیٹھنے سے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔

خط میں کہا گیا ملکی حالات کا تقاضا ہے جو حکومت کے خلاف نکلے اس کا ساتھ دیا جائے، مولانا صاحب ہمارے اتحادی ہیں ، پارٹی کی سینئر قیادت کو اعتماد میں لیں اور میرا پیغام پہنچائیں اور مولانا فضل الرحمان کی ہر طرح سے سپورٹ کی جائے۔

نواز شریف کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کئے جائیں، میں قید نہ ہوتا تو مولانا کے ساتھ ٹرک پرکھڑا ہوتا، اب یہ ذمہ داری آپ نبھائیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ میرے پاس کھونے کو کچھ نہیں ، بہت سمجھوتہ کر لیا یہ وقت اب جدو جہد کا ہے، پارٹی رائے لیں مارچ میں جانے کے فوائد اور نہ جانے کے نقصانات کیا ہیں۔

میں مولانا فضل الرحمان سے صفدر کے ذریعے رابطے میں ہوں، مولانا صاحب نے کہا ہے کہ مجھے ن لیگ کی مدد چاہیے، مولانا صاحب نے مدد مانگی ہے تو انہیں تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے نواز شریف کےخط کےبعدمشاورتی اجلاس کل بلالیا ہے، اجلاس میں پارٹی رہنماؤں سےنوازشریف کی تجاویز پر رائے لی جائے گی۔

گذشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف کا جیل سے لکھا گیا خط جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو موصول ہوا تھا ، خط میں نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کے مارچ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔

نواز شریف نے خط میں یقین دہانی کرائی تھی کہ ہر قسم کا تعاون کریں گے، ن لیگ کی پوری قیادت آپ کے مارچ کی حمایت کرتی ہے، سلیکٹڈ حکومت کےخاتمے کے لیے ن لیگ پوری طرح آپ کے ساتھ ہوگی۔

مزید پڑھیں : نواز شریف کا مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی مکمل حمایت کا اعلان

یاد رہے گذشتہ روز مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کا اجلاس شہباز شریف کی رہائش گاہ پر ہوا تھا، جس میں شہباز شریف، راجہ ظفر الحق، احسن اقبال سمیت مرکزی قیادت مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں شرکت کی حامی نہیں تھی جبکہ جونیئرقیادت نے مارچ میں شرکت کی تجویز دی تھی۔

جاوید لطیف، امیر مقام اور سینیٹر پرویز رشید مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں شرکت کے حامی تھے۔

واضح رہے جے یو آئی (ف) نے 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے، مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مظاہروں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ شروع ہوگا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانافضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد جانا ہمارا آخری اور حتمی فیصلہ ہے، اب یہ جنگ حکومت کے خاتمے پر ہی ختم ہوگی، ہماری جنگ کا میدان پورا ملک ہوگا، ملک بھر سے انسانوں کا سیلاب آرہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں