ہفتہ, جولائی 11, 2026
اشتہار

پنجرے میں بند چڑیا اور راشن کا پرچہ

اشتہار

حیرت انگیز

اولاد کا اپنے ماں باپ سے لگاؤ اور محبّت فطری امر ہے۔ اردو ادب میں بھی خاص طور پر ماں اور اولاد کے لیے اس کی بے غرض اور ان گنت قربانیوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ مشاہیر کی تخلیقات کے علاوہ ان کی خود نوشتوں میں بھی ہمیں کئی ایسے واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں جو ماں کی ممتا اور اپنی اولاد کی خاطر اس کی قربانیوں کے تذکرے سے سجے ہوئے ہیں۔

یہاں ہم مشہور مصنّفہ، ناول نگار اور خاکہ نگار حمیدہ اختر حسین رائے پوری کی خودنوشت کے ایک باب سے چند اقتباسات پیش کررہے ہیں جو انھوں نے اپنی والدہ سے متعلق لکھا تھا۔

حمیدہ صاحبہ کے والد ظفر عمر کو اردو کا پہلا جاسوسی ناول نگار کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری مشہور ادیب اور نقاد اختر حسین رائے پوری سے ہوئی تھی۔ حمیدہ صاحبہ نے شوہر کی وفات کے بعد اپنا ادبی سفر شروع کیا۔ انھوں نے اپنی تین کتابوں میں خود نوشت بیان کی ہے جو ہم سفر، نایاب ہیں ہم اور وہ کون تھی کے عنوان سے شایع ہوئیں۔

حمیدہ اختر حسین کی خود نوشت ہم سفر ہر زاویہ سے بہترین خود نوشت کہی جاسکتی ہے۔ اس میں انھوں نے جستہ جستہ اپنی والدہ کا ذکر موقع محل کی مناسبت سے کیا ہے۔ نایاب ہیں ہم میں انھوں نے الگ الگ شخصیات پر مضامین لکھے، ان میں اماں کے عنوان سے ایک مضمون ہے، جس میں انھوں نے اپنی والدہ کی پوری زندگی کا احاطہ کیا ہے۔

حمیدہ اختر حسین بتائی ہیں کہ ان کی والدہ کی شادی کم عمری میں ہوگئی، ان کو گھر داری سے کوئی علاقہ نہیں تھا۔ پہلی مرتب راشن منگوانے کے لیے جو پرچہ لکھا، اس کا حال ملاحظہ کریں، لکھتی ہیں:

"شادی کے وقت عمر تو صرف بارہ سال تھی۔ گھر داری سے ان کو بہت کم ہی واقفیت ہو گی۔ ورنہ گھر کے راشن کے پہلے پرچے پر دالیں، مصالحے لکھ کر آخر میں دو من چنے اور ایک تولہ سونا نہ لکھا ہوتا۔ ابا نے ہنس کر پو چھا، یہ دو من چنے ایک ماہ میں کون کھائے گا؟ تو جواب سیدھا سا تھا، میں کیا جانوں، ہمارے گھر میں اسی طرح سے سامان آتا تھا۔ اچھا سوچ کر بتاؤں گی۔ دوسرے دن بتایا کہ ضرور چنے ابا کے دونوں گھوڑوں کے لیے آتے ہوں گے اور سونا لڑکیوں کے زیور کے لیے۔” (بحوالہ: نایاب ہیں ہم)

حمیدہ کی والدہ کا نام اشتیاق جہاں تھا۔ ان کے والد خان بہادر جعفر حسین، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ تعمیرات میں سرسید کے مشیرِ خاص تھے۔ وہ سرسید کے زیرِ اثر لڑکیوں کے تئیں نرم رویہ رکھتے تھے۔ ضرورت کے تحت میرٹھ سے علی گڑھ آتے رہتے تھے۔ بیٹی کی شادی کے بعد ایک مرتبہ آئے تو بیٹی سے ملنے اس کے گھر گئے۔ چھوٹا سا گھر، بیٹی روٹی پکا رہی تھی، ان کو دیکھ کر ٹھیس پہنچی۔ حمیدہ لکھتی ہیں:

"بیٹی سے ملنے شہر گئے، صحن میں داخل ہوئے… سامنے بیٹی کو روٹی پکاتے دیکھ کر الٹے پاؤں بغیر ملے پلٹ گئے۔ اسی وقت زمین خرید کر نقشہ بنا کر کوٹھی بنوانا شروع کر دی۔ دو ماہ بعد جب زنان خانہ تیار ہو گیا تو بیٹی سے ملنے آئے، سامان بندھوا کر جعفر منزل
لائے اور بولے اس دن تم کو چھوٹے سے صحن میں بیٹھا دیکھ کر لگا کہ چڑیا پنجرے میں بند ہوگئی۔” (نایاب ہیں ہم)

حمیدہ اختر حسین کی والدہ عقیدہ کی پختہ خاتون تھیں۔ کتنی ہی پریشانی ہو، لوگ ہزار طریقہ سے کہیں کہ فلاں مزار پر جا کر دعا کرو، فلاں شخص تعویذ دیتا ہے، مگر انھوں نے کسی کی بات پر کان نہیں دھرا۔ خلیل بیمار ہو گیا تھا۔ اس کے لیے ڈاکٹروں نے اپنی اپنی کوشش کی، لوگوں نے سمجھایا، مایوی سی چھا گئی تھی مگر وہ اللہ پر بھروسہ کیے علاج کرتی رہیں۔ حمیدہ لکھتی ہیں:

"اماں نے کئی بار ہم سب سے کہا، تم نے دیکھ لیا نا خلیل بیمار تھا اور دعا سے اللہ کے فضل سے ٹھیک ہو گیا نا! بیماری دکھ سکھ اور خوشی، تنگی، فراوانی زندگی کا حصہ ہیں، ہر حال کو رضائے الہی سمجھ کر ہمت، حوصلہ اور بہتری کی امید رکھتے ہوئے قبول کرنا چاہیے۔ کبھی مزاروں کے چکر نہ لگانا، جو دعا خود مولا سے کرتا ہے، اس کو اگر وہ تمہارے حق میں مناسب سمجھے گا تو ضرور قبول کرے گا۔” (بحوالہ: نایاب ہیں ہم)

اہم ترین

مزید خبریں