The news is by your side.

Advertisement

نازیہ حسن، افسانوی شہرت کی حامل گلوکارہ

اگر یہ کہا جائے تو کیا غلط ہو گا کہ نازیہ حسن افسانوی شہرت کی حامل ہیں۔

انھیں پاکستان میں پاپ موسیقی کی شہزادی بھی کہا جاتا ہے۔ اس گلوکارہ نے غیر معمولی شہرت حاصل کی اور لاکھوں دلوں پر راج کیا۔

نازیہ حسن کے گیتوں کی مقبولیت آج بھی برقرار ہے اور مداحوں کی ان سے محبت اور عقیدت بھی۔

آج اس گلوکارہ کی 55 ویں سال گرہ منائی جارہی ہے۔ نازیہ حسن 3 اپریل 1965 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ 1980 میں محض پندرہ سال کی عمر میں ان کی اس وقت ان کی شہرت کا سفر شروع ہوا جب بھارتی فلم قربانی کے لیے ان کی آواز میں گیت لوگوں کی سماعتوں سے ٹکرایا۔

اس کے بول تھے، “آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے”

1981 میں نازیہ حسن کا پہلا البم “ڈسکو دیوانے” نے ہر طرف دھوم مچا دی اور ان کی شہرت آسمان کو چھونے لگی۔

عالمی شہرت یافتہ جریدے “ٹائمز” نے بااثر شخصیات کی فہرست جاری کی تو اس میں پاکستانی گلوکارہ نازیہ حسن کا نام بھی شامل تھا۔

برصغیر میں‌ نوجوان نسل کی توجہ حاصل کرنے اور ان پر گہرا اثر ڈالنے والی نازیہ کے بھائی زوہیب حسن بھی ان کے ساتھ تھے اور ان کے دو گانے بہت مشہور ہوئے۔ نازیہ حسن نے بوم بوم، ینگ ترنگ، ہاٹ لائن اور کیمرا کیمرا کے ناموں سے چار البم ریلیز کیے اور لاکھوں دلوں کی دھڑکن بنی رہیں۔

نازیہ حسن 35 برس کی عمر میں اپنے مداحوں کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ انھیں پھیپھڑوں کا کینسر تشخیص ہوا تھا۔

نازیہ حسن کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں