متحدہ ہندوستان کی فلمی صنعت اور تقسیم کے بعد پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے ناظم پانی پتی نے بطور نغمہ نگار کئی سدا بہار گیت تخلیق کیے جو سرحد پار بھی بہت مقبول ہوئے لیکن آج ان کا تذکرہ شاذ ہی ہوتا ہے۔ لاہور آنے کے بعد بھی بمبئی کے فلم ساز اور موسیقار ناظم پانی پتی کو عرصہ تک فراموش نہیں کرسکے تھے۔
شاعر فلمی گیت نگار ناظم پانی پتی ایک فقیر منش اور سادہ انسان مشہور تھے۔ ان کا انتقال 18 جون 1998ء کو ہوا تھا۔ آج ناظم پانی پتی کی برسی ہے۔ ان کی فنی عظمت کو فلمی دنیا میں سبھی نے تسلیم کیا ہے، اور اگرچہ ناظم پانی پتی تقسیمِ ہند کے چند برس بعد پاکستان چلے آئے تھے، مگر انھیں بھارتی فلم ساز اور موسیقار بھی آسانی سے فراموش نہیں کرسکے اور ان کی کمی محسوس کی جاتی رہی۔ ناظم پانی پتی نے فلم نگری کو دل میرا توڑا، کہیں کا نہ چھوڑا، تیرے پیار نے جیسا مقبول گیت دیا اور ایک خوب صورت لوری چندا کی نگری سے آ جا ری نندیا بھی انہی کی تخلیق ہے جسے آج بھی اکثر سنا جاتا ہے۔
ناظم پانی پتی کا اصل نام محمد اسماعیل تھا۔ پیدائش ان کی لاہور شہر میں ہوئی مگر اپنے والد کی جائے پیدائش کی مناسبت سے پانی پت کو اہمیت دی اور اسے لاحقہ بنایا۔ وہ 15 نومبر 1920 کو پیدا ہوئے۔ ناظم پانی پتی کے بڑے بھائی ولی صاحب اور ان کی بھاوج ممتاز شانتی کا تعلق فلمی دنیا سے تھا۔ ناظم پانی پتی نے ہندوستان اور بعد میں لاہور کے فلمی مرکز سے وابستہ ہوکر کئی مقبول گیت تخلیق کیے۔ خزانچی، پونجی، یملا جٹ، چوہدری، زمین دار اور شیریں فرہاد جیسی فلموں کے لیے ان کے تحریر کردہ گیت بہت مقبول ہوئے۔
جس گیت نے ناظم صاحب کو فلم بینوں سے بھرپور انداز میں متعارف کرایا وہ محمد رفیع کا گایا ہوا تھا، اس کے بول تھے:
جگ والا میلہ یار تھوڑی دیر دا
ہنسدے آں رات لنگے پتا نیئں سویر دا
جگ والا میلہ یارو….
یہ فلم ”لچھی” کا وہ گیت ثابت ہوا جس کی وجہ سے فلم سپر ہٹ ہوگئی۔ اس فلم کے بعد ناظم صاحب کو اتنی مقبولیت ملی کہ انڈسٹری میں ان کا طوطی بولنے لگا۔ ناظم پانی پتی نے بعد میں اپنے بڑے بھائی ولی کی طرح گرامو فون کمپنیوں کے لیے بھی گیت نگاری شروع کر دی تھی۔ وہ لگ بھگ دس سال تک بمبئی میں مقیم رہے اور 25 سے زائد فلموں کے لیے گیت لکھے۔ اس دور کی فلموں میں مجبور، بہار، شیش محل، لاڈلی، شادی، ہیر رانجھا اور دیگر شامل ہیں۔
کہتے ہیں کہ ناظم پانی پتی نے اردو کے ممتاز افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی میّت کو غسل اور کفن دیا تھا۔ جب کہ خود وہ پاکستان میں زندگی کے آخری سال گمنامی میں گزارتے رہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ یہاں فلمیں بننا بہت کم ہوگئی تھیں اور نگار خانے ویران پڑے تھے۔ اردو کے علاوہ پنجابی زبان میں گیت لکھنے کے ساتھ انھوں نے متعدد فلموں کا اسکرپٹ بھی لکھا۔ ناظم پانی پتی لاہور میں ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں ابدی نیند سورہے ہیں۔


