منگل, ستمبر 8, 2026
اشتہار

ناظم آباد : کرکٹ کے عظیم ستاروں کی جنم بھومی

اشتہار

حیرت انگیز

 گزشتہ سے پیوستہ : دوسرا اور آخری حصہ 

کراچی : شہر قائد کے علاقے ناظم آباد نے وطن عزیز کو کئی نامور کرکٹرز دیے، جن میں ایک یہودی نوجوان بھی تھا۔

یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ناظم آباد میں چند یہودی خاندان بھی آباد تھے، یہاں کی تعمیر و ترقی میں ان خاندانوں کا بھی اہم کردار ہے۔

Jewish family

کرکٹ کے عظیم ستاروں کی جنم بھومی

ناظم آباد نے وطن عزیز کو نہ صرف ادیب دانشور اور فن کار دیے وہیں نامور کرکٹرز کا نام بھی آتا ہے، ان ہی میں سے ایک یہودی نوجوان آئزک سلیمان بھی تھے جو بعد ازاں کراچی کے ممتاز فرسٹ کلاس کرکٹر بنے۔

انہوں نے ناظم آباد اور سینٹ پیٹرک کالج سے تعلیم حاصل کی اور کراچی لیگ کرکٹ سمیت شہر کی نمائندہ ٹیم کی جانب سے بھی کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا، بعد ازاں ان کا خاندان ہجرت کرکے اسرائیل منتقل ہوگیا۔

cricketer

ناظم آباد کی گلیوں اور میدانوں نے پاکستان کو بے شمار عظیم کرکٹر دیے، جن میں حنیف محمد، مشتاق محمد، وزیر محمد، ظہیر عباس، انتخاب عالم، قاسم عمر، اقبال قاسم، سلیم یوسف، شعیب حبیب، رمیز راجہ، عامر سہیل اور دیگر کئی نامور کھلاڑیوں کے نام سرفہرست ہیں جنہوں نے یہیں سے اپنے کھیل کا آغاز کیا۔

اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے امین لاکھانی نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈبل ہیٹ ٹرک کا عالمی ریکارڈ قائم کیا، جبکہ سہیل عباس نے عالمی ہاکی میں پنالٹی کارنر اسپیشلسٹ کے طور پر دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔

گھروں کے نام بھی شناخت بن گئے

ناظم آباد کی ایک منفرد روایت یہ تھی کہ یہاں کے کئی مکانات اپنے خوبصورت اور منفرد ناموں کی وجہ سے شہر بھر میں مشہور تھے۔ ’سین منزل‘، ’خری ہاؤس‘ اور ’جہاز والی کوٹھی‘ جیسے گھروں کا شمار ان تاریخی رہائش گاہوں میں ہوتا تھا، جنہیں لوگ صرف پتوں سے نہیں بلکہ ان کے ناموں سے پہچانتے تھے۔ آج بھی ’’جہاز والی کوٹھی‘‘ اس دور کی یاد تازہ کرتی ہے۔

کیفے الحسن، زخمی چوک اور ادبی محفلیں

ناظم آباد کی شناخت صرف کھیل تک محدود نہیں تھی بلکہ یہاں کے کیفے، ہوٹل اور چبوترے ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے مراکز بھی تھے۔

Cafe hasan

ناظم آباد نمبر ایک میں واقع کیفے الحسن ادیبوں، شاعروں، فنکاروں، کھلاڑیوں اور دانشوروں کی پسندیدہ بیٹھک ہوا کرتا تھا۔ اس کافی ہاؤس کا افتتاح معروف عالم علامہ رشید ترابی نے کیا تھا، جبکہ یہاں روزانہ ادبی اور فکری نشستیں منعقد ہوتی تھیں۔

اسی کیفے کے سامنے موجود چبوترہ ’’زخمی چوک‘‘ کے نام سے مشہور تھا، جہاں فرسٹ کلاس کرکٹ تک نہ پہنچنے والے کرکٹر مزاحیہ انداز میں اپنی ’’ادھوری کرکٹ‘‘ کی داستانیں سناتے اور معروف کھلاڑیوں کے ساتھ گھنٹوں گفتگو کرتے تھے۔

سائنس، فن اور ادب کی نامور شخصیات

ناظم آباد نے پاکستان کو صرف کھلاڑی ہی نہیں بلکہ ہر شعبے میں نمایاں شخصیات دیں۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے معمار ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی اسی علاقے میں مقیم رہے، جبکہ بے مثال اداکار اور مزاح نگار معین اختر کی شخصیت آج بھی اہلِ ناظم آباد محبت سے یاد کرتے ہیں۔

یہیں معروف فلمی شخصیات محمد علی، زیبا، آزاد، سنگیتا اور بھارتی اداکارہ تبو کے اہلِ خانہ بھی رہائش پذیر رہے۔

ادبی دنیا میں ابنِ صفی، ابنِ انشا، شوکت تھانوی، مجنوں گورکھپوری، ابوالفضل صدیقی سمیت متعدد نامور ادیبوں اور شاعروں نے اس علاقے کو اپنا مسکن بنایا۔

علمائے کرام میں علامہ رشید ترابی، مولانا طالب جوہری، مفتی عمر نعیمی اور ضمیر اختر نقوی جیسی شخصیات بھی ناظم آباد کی شناخت رہیں، جبکہ سیاست اور عسکری میدان میں پرویز مشرف، جنرل اسلم بیگ، پروفیسر غفور احمد اور کئی جج صاحبان بھی یہاں مقیم رہے۔

School Of Art

پاکستان کا پہلا آرٹ اسکول

ناظم آباد کی ایک اور تاریخی پہچان یہ بھی ہے کہ نجی سطح پر پاکستان کا پہلا آرٹ اسکول بھی یہیں قائم ہوا۔

سال 1960کی دہائی میں جب کراچی میں باقاعدہ آرٹ کی تعلیم کا کوئی ادارہ موجود نہیں تھا، تب معروف فنکار بہنوں رابعہ زبیری اور حاجرہ زبیری نے اپنے گھر کے صرف دو کمروں سے میں آرٹ اسکول کی بنیاد رکھی تھی۔

چند برسوں بعد یہی ادارہ ترقی کرتے ہوئے کراچی اسکول آف آرٹ میں تبدیل ہوگیا، جہاں سے ہزاروں فنکاروں نے اپنے عملی سفر کا آغاز کیا۔

 تعلیم کا شہر 

ناظم آباد کو ’’ٹاؤن آف اسکولز اینڈ کالجز‘‘ کہنا بے جا نہیں ہوگا۔ یہاں قائم پریمیئر کالج، گورنمنٹ سٹی کالج، سٹی کالج فار گرلز، گورنمنٹ کالج فار ویمن اور سر سید کالج نے ہزاروں باصلاحیت طلبہ تیار کیے، جنہوں نے بعد ازاں مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

معروف شاعرہ پروین شاکر اور دیگر کئی نامور علمی و ادبی شخصیات کا تعلق بھی اسی علاقے سے رہا، جس کے باعث ناظم آباد کئی دہائیوں تک کراچی کا سب سے بڑا علمی اور ادبی مرکز سمجھا جاتا رہا۔

یادوں میں زندہ ایک سنہرا دور

وقت کے ساتھ شہر کا نقشہ ضرور بدل گیا، مگر ناظم آباد آج بھی اپنی تہذیبی، ادبی، تعلیمی اور ثقافتی روایات کے باعث کراچی کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہاں کی گلیاں، تاریخی مکانات، پرانے کافی ہاؤس اور بزرگوں کی یادیں آج بھی اس سنہرے دور کی گواہی دیتی ہیں جب ناظم آباد کو شہرِ قائد کا سب سے باوقار اور مہذب علاقہ سمجھا جاتا تھا۔

ناظم آباد : ویرانہ مہذب مقام میں کیسے بدلا؟ حیران کن داستان

اہم ترین

مدثر نذیر
مدثر نذیر
مدثر نذیر نے پاکستان کے مختلف مین اسٹریم چینلز میں انوسٹیگیٹو جرنلزم میں نمایاں کام کیا اور ایک بڑے نجی چینل میں بطور بیورو چیف خدمات انجام دی ہیں۔ ڈنمارک میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق متعدد دستاویزی پروگرام بھی ان کی ذمہ داری میں شامل رہے۔ علاوہ ازیں، وہ سرکاری اداروں جیسے ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کی پروڈکشن ٹیم کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔ مدثر نذیر کے انوسٹیگیٹیو اسٹورز، جیسے کراچی کے "نائنٹی ٹو آپریشن" اور ایم کیو ایم پر رپورٹس، ان کی شناخت اور مقبولیت کی وجہ بنیں۔ ان کی ایکسپرٹ بیٹس میں خصوصی طور پر ایجوکیشن اور ہیلتھ کے موضوعات شامل ہیں۔ فی الوقت وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم زاویہ، جو ایک ڈاکومنٹری چینل ہے، کے ہیڈ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں

مزید خبریں